خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 750 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 750

خطبات طاہر جلد 13۔750 خطبہ جمعہ فرموده 7 /اکتوبر 1994ء نہیں مل سکتا۔یعنی انفرادی تفصیلی، ذاتی اور فیملی ملاقاتیں ممکن نہیں ہیں۔چونکہ یہ ممکن نہیں تھا کہ سب سے مل سکتے ،اگر ایسا کرتے تو مل بیٹھ کر جو اجتماعی گفتگو ہے اس کا وقت نہیں ملنا تھا۔اس لئے میں نے امیر صاحب سے یہ درخواست کی کہ چند ایسے استثناء جو بعض دفعہ کرنے پڑتے ہیں ان کے سوا ذاتی اور فیملی ملاقاتیں نہ رکھی جائیں۔اس لئے آج کا پروگرام یہ ہوگا کہ جمعہ کے بعد ہم ایک کسی ذاتی گھر میں جہاں پہلے سے انتظام ہے وہاں کچھ عرصے کے لئے جائیں گے۔پھر پانچ بجے ہمارا با قاعدہ دوسرا جماعتی پروگرام شروع ہوگا اور پانچ بجے ایک گھنٹہ کی ملاقاتیں ہیں وہ بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے استثنائی صورت میں ہیں بعض ایسی علامتیں ہیں جن سے میں پہلے کبھی وعدہ کر چکا تھا اور موقع پر مجھے یاد دلایا گیا اس لئے یہ مجبوری تھی اور بعض اور مصلحتوں کے پیش نظر جو جماعتی مصلحتیں بھی ہیں ملاقاتیں رکھنی پڑتی ہیں۔کسی کو مقامی انتظامیہ سے یا امیر صاحب سے شکوے کا محل نہیں ہے۔یہ مناسب نہیں ہوگا کہ لوگ کہیں کہ فلاں کی کروادی اور فلاں کی نہیں کروائی۔جو کچھ بھی ہوا ہے میری ہدایت پر مشورے کے بعد اور میری اجازت سے ہوا ہے اس لئے اس بحث کو بے وجہ نہ چھیڑیں کہ کس کو موقع ملنا چاہئے تھا اور نہیں مل سکا۔ہاں اجتماعی ملاقات کے لئے انشاء اللہ چھ بجے وقت رکھا گیا ہے چھ سے لے کر ساڑھے سات تک انشاء اللہ ہم اکثر حصہ مردوں میں بیٹھ کر گفتگو کریں گے۔جس نے اپنا تعارف کروانا ہوا اسے موقع ملے گا۔بہت سے ایسے احمدی دوست ہیں جو پاکستان سے یا کسی اور کینیڈا کے حصے سے اس علاقے میں میرے گزشتہ دورے کے بعد آئے ہیں اور ان سے جو خصوصا پاکستان سے آئے ہیں ان سے تو دس گیارہ سال سے بعض سے بارہ سال سے ملاقات نہیں ہوئی۔ان میں بھی آگے پھر مختلف قسمیں ہیں۔جب ملاقات کے خواہشمندوں کی فہرست دیکھ رہا تھا میں نے امیر صاحب سے کہا کہ جب میں پاکستان ہوتا تھا تو بعض ان میں سے ایسے ہیں جب وہاں بھی ان کو ملنے کی خواہش نہیں ہوئی تو اب کینیڈا کا کیوں زائد حق تسلیم کیا جائے۔اس لئے جو پرانے سلسلے سے گہرا تعلق رکھنے والے خدام ہیں، کاموں میں پیش پیش ہیں اور جماعتی خدمت کی وجہ سے حق رکھتے ہیں ان کو بہر حال فوقیت ملنی چاہئے۔لیکن کم کرنے کے باوجود پھر بھی فہرست اتنی لمبی بن گئی تھی کہ تین گھنٹے میں بھی وہ چیدہ چیدہ ناموں کے ساتھ فیملی ملاقاتیں ممکن نہیں تھیں۔یہ تو معذرت کا حصہ ہے انشاء اللہ باقی ملاقات چھ بجے اجتماعی طور پر ہم اکٹھے بیٹھیں گے اور آپ کو موقع ملے گا جو دوست بعد میں آئے ہیں وہ کھڑے ہو کر اپنا تعارف کروا