خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 742 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 742

خطبات طاہر جلد 13 742 خطبه جمعه فرموده 30 ستمبر 1994ء بھی دے رہا ہوں، اب اور کیا کروں اور یہ کرو کہ اپنے وجود کو جھونک دو اس آگ میں، جو محبت کی آگ ہے، جس کے بغیر آپ کے دل کی سچائی ثابت نہیں ہو سکتی ، جس کے بغیر آپ کا بنی نوع انسان سے ہمدردی کا دعویٰ محض جھوٹا اور فرضی دعوئی ہے۔پس اگر آپ دل کی گہرائی سے بنی نوع انسان کو بچانا چاہتے ہیں تو پہلے تو یہ جذبہ پیدا کریں، سچی ہمدردی جو روز مرہ آپ اپنے گھر میں اپنے بچوں سے کرتے ہیں، اپنے اہل وعیال سے کرتے ہیں، اپنی بہنوں ، بھائیوں سے کرتے ہیں یا عزیز دوستوں سے، ان کو نقصان میں جاتا دیکھ کر اگر آپ بچے ہیں تعلق میں ، تو آپ چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔پس کیا یہ سچ ہے کہ یہ قومیں اپنے شرک کی وجہ سے ان تمام نعمتوں کو پانے کے بعد آخر صفحہ ہستی سے مٹا دی جائیں گی۔اگر یہ سچ ہے اور یقینا سچ ہے کیونکہ قرآن نے بیان فرمایا اور ایسے حالات میں بیان فرمایا جب قرآن ان باتوں کو بیان کرنے کی ، اگر بندے کا کلام ہوتا تو ، اہلیت ہی نہیں رکھتا تھا۔کہاں وہ زمانہ عرب کے صحراؤں کا ، کہاں ان غاروں کا ذکر ، جو سینکڑوں سال، ہزار سال سے زیادہ بعد کے عرصے میں دریافت ہوئی تھیں اور سینکڑوں سال پہلے بنائی گئی تھیں، جن کی اشارہ بھی کوئی خبر اہل عرب کو نہیں تھی اور پھر ان کے اندر کے راز کس قسم کے لوگ ان میں ملیں گے، کس قسم کے صحیفے انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں۔یہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ممکن نہیں۔پس جب قرآن سچا ہے تو وہ خبریں جو آئندہ زمانے کی دی گئی ہیں جن میں سے بعض ہم نے پوری ہوتی دیکھ لی ہیں۔وہ یقینا سچی ہیں ان میں ادنیٰ بھی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے پھر آپ کیسے آرام سے بیٹھتے ہیں۔پھر کیوں گھر گھر منادی نہیں کرتے ، پھر کیوں اپنے دوستوں کو اس پیغام کی طرف بلاتے نہیں ہیں، کیوں ان کو پیار سے سمجھاتے نہیں ہیں؟ اور سمجھانے کا جواند از قرآن نے آپ کو سکھایا ہے وہ کیوں اختیار نہیں کرتے۔بجائے اس کے کہ بائبل کی بحثوں میں پڑکر ان آیات کے کچھ مختلف معنی نکالنے کی کوشش کریں جن کے مختلف معنی عیسائی کرتے ہیں۔صاف سیدھا تو حید کا پیغام دیں جو ہر انسان کی فطرت میں گوندھی گئی ہے۔یہ ایسا پیغام ہے جس کو ہر سعید فطرت انسان دل سے قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔لیکن اگر جھگڑے کے بغیر ، ہمدردی سے یہ پیغام دیا جائے اور بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ تم لوگ ہلاک ہو، تم بہت گندے لوگ ہو، گویا تم نے عیسائیت کو چھوڑ دیا۔ان آباؤ و اجداد کا ذکر کیوں نہیں کرتے جن کا ذکر قرآن نے کیا اور