خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 743 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 743

خطبات طاہر جلد 13 743 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دل کی تسلی کے لئے وہ پاکباز کہانیاں آپ کے سامنے پیش کیں، جو پاکباز لوگوں سے تعلق رکھتی تھیں۔اتنا عظیم الشان آغاز ہے عیسائیت کا کہ قرآن نے جیسا خراج تحسین اس کو پیش فرمایا ہے ویسا کسی اور قوم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اس طرح تفصیل سے بیان نہیں فرمایا۔سینکڑوں سال کی تاریخ غاروں کے حوالے سے بیان فرما دی گئی۔وہ تاریخ جو لکھی گئی اور ان غاروں میں محفوظ کر دی گئی اس کا ذکر فرمایا گیا اور کہا دیکھو کتنے عظیم بندے تھے عیسٹی کے ماننے والے، جو اسے پوجتے نہیں تھے جو اس کی طرح خدائے واحد کو پوجتے تھے اور جس طرح خدائے واحد کی خاطر عیسٹی نے اپنی زندگی تمام عمر مصیبتوں میں مبتلا کر دی، مصیبتوں میں جھونک دی اسی طرح ان پاک بندوں نے اپنے آقا کی غلامی کا سچا حق ادا کیا اور سطح زمین کی لذتوں کو چھوڑ کر غاروں میں چلے گئے۔ان کا ذکر کیوں نہیں کرتے ، وہ آپ ذکر کریں تو پھر آپس میں مد مقابل دو کیمپوں کی سی کیفیت نہیں ہوگی بلکہ آپ ان کے ساتھ چل کر ان کے پاک ماضی کا ذکر کرتے ہوئے انہیں پاک مستقبل کی طرف دعوت دینے کی کوشش کریں گے اور یہ ایک نہایت ہی حکیمانہ طریق ہے جو محبت کے ساتھ بغیر کسی جھگڑے کو طول دیئے انسان کے دل میں راہ پا جاتا ہے۔یہ وہ طریق ہے جو دل سے نکلتا ہے اور دل تک راہ پاتا ہے۔پس سب سے پہلے سچی ہمدردی اور پیار کے ساتھ خود اپنے دل کو متاثر کریں اور غور کریں کہ آپ کون ہیں، کیا ہیں، کیا یہ واقعی سچ ہے کہ اگر یہ لوگ انذار کی طرف جارہے ہیں تو آپ کے لئے خوشخبریاں مقدر ہیں اور آپ کو یقین ہے اور ہونا چاہئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جتنی نیک خبریں جماعت احمدیہ کو دی تھیں اب ہم اس دور میں بڑی تیزی سے داخل ہور ہے ہیں جبکہ وہ خبریں پہلے سے بڑھ کر شان کے ساتھ نمایاں طور پر چاند سورج کی طرح روشن ہو کر ہمارے سامنے ظاہر ہورہی ہیں۔اس دور میں داخل ہونے کے بعد کیا آپ کو خوش خبریوں پر یقین نہیں۔اگر ہے تو پھر ان خوشخبریوں کے مزے کیسے لوٹیں گے جبکہ آپ کا سارا ماحول ہلاک ہور ہا ہوگا۔ایک انسان جسے نعمتیں میسر ہوں وہ کیا بھوکوں میں بیٹھ کے بھی اکیلا ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پس پھر وہی دل کی بات ہے، انسانی قدروں کی بات ہے اگر آپ کے دل میں حقیقت میں انسانیت سے تعلق ہو تو ان کے غم کی خبر آپ کو بے چین کر دے گی تا کہ ان کو غم سے بچانے کی کوشش کریں اور اپنی خوشیوں کا