خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 741 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 741

خطبات طاہر جلد 13 741 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء مصیبت پڑی تھی؟ کیا آپ عبادت نہیں کرتے تھے؟ کیا آپ قرآن کے مفہوم کو نہیں سمجھتے تھے؟ تو جب آپ قرآن کو جانتے تھے، آپ ہی پر تو نازل ہوا تھا اور عبادت کا حق آپ سے بڑھ کر کوئی اور ادا کر نہیں سکتا تھا پھر اس جہاد کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا راز اس دل میں ہے جس کا ذکر سورہ کہف میں بیان ہوا ہے کہ وہ سچا دل جو ہمدرد ہو اس کے لئے چین سے بیٹھنا ممکن نہیں رہتا۔اگر وہ اس یقین سے بھر جائے کہ اس کے ماحول میں کچھ لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔اس کی عام مثال ماؤں کی زندگی میں ملتی ہے، باپوں کی زندگی میں بھی ملتی ہے اور عزیزوں کی زندگی میں بھی ملتی ہے۔کوئی ماں جس کا بچہ آگ کی طرف بڑھ رہا ہو کیا وہ آرام سے بستر سے لپٹی ہوئی سوسکتی ہے؟ ایک کروٹ بدل کر بچے کو آگ میں جاتے ہوئے دیکھے اور دوسری کروٹ لے کر، پھر وہ آرام سے سو جائے یہ ناممکن ہے۔وہ تو دیوانے کی طرح جھپٹے گی اگر آگ میں بچہ داخل بھی ہو جائے تو اس آگ میں خود اپنے آپ کو جھونک دے گی کہ کسی طرح میں اس بچے کو وہاں سے نکال لوں۔یہ انسانی جذبے کی سچائی اپنی انتہا پر پہنچ کر اپنی روشن ترین صورت میں ہمیں دکھائی دیتی ہے اور آنحضرت ﷺ کے متعلق تو قرآن فرماتا ہے کہ اپنے ماں باپ سے بڑھ کر اس سے محبت کرو۔ہر دوسرے رشتے سے زیادہ اسے چاہو۔یہ ناممکن تھا کہ خدا ہم سے یہ مطالبہ کرتا اگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺے ماں باپ سے بڑھ کر ہم سے محبت نہ کرتے اور ہر دوسرے رشتے سے بڑھ کر ہمیں نہ چاہتے تو قرآن کو آپ سمجھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ کیسا عظیم رسول تھا جس کی غلامی کا شرف ہمیں بخشا گیا ہے۔پس جو بھی اسلوب میں محمد رسول اللہ اللہ ہی سے سیکھنے ہیں اور آپ سے سیکھے بغیر ہم اپنے مقاصد کو ہرگز حاصل نہیں کر سکتے۔پس سورہ الکہف نے جس دل کا ذکر کیا ہے انذار سنتے ہی کس قدر بے چین ہوا کہ اللہ نے مضمون کو روک کر ٹھہر کر فرمایا ! اے میرے بندے! ان کی خاطر اپنے آپ کو ہلاکت میں مبتلا نہ کر لیکن یہ دل تو نہیں بدلا کرتا اللہ تعالیٰ نے تو پیار کے اظہار کے طور پر اور آئندہ زمانوں میں حضرت محمد رسول اللہ اللہ کی گہری صداقت کے اظہار کے طور پر یہ گواہی رکھ دی ورنہ آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس سے باز تو نہیں آئے مسلسل بنی نوع انسان کے غم میں مبتلا ر ہے اور اسی غم کے نتیجے میں اور اس یقین کے نتیجے میں کہ انذار ضرور سچا ہے آپ پیغام پہنچاتے رہے۔پس کسی کا یہ کہنا کہ میں نماز پڑھ لیتا ہوں، میں عبادت کرتا ہوں یا کوئی احمدی یہ کہہ دے کہ میں چندے الله