خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 737
خطبات طاہر جلد 13 737 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء لئے علمی تحقیقات کریں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کے بعض پہلو ہیں جو میں یہاں بیان نہیں کر رہا۔وہ الگ بعض تحقیقات کرنے والے وفود کے سپر د کام کر چکا ہوں۔لیکن یہ ایک عمومی تحریک ہے جس میں کینیڈا اور امریکہ سب شامل ہیں اور یورپ میں پہلے ہی میں یہ تحریک ذاتی طور پر ملاقاتوں کے دوران بھی کر چکا ہوں۔دوسری بات جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا تھا، اسکا تعلق تبلیغ سے ہے۔جب آپ سورہ کہف پر غور کرتے ہیں تو دو باتیں قطعی طور پر آپ کے سامنے آتی ہیں۔اول یہ کہ وہ زینت جو سطح ارض پر ملتی ہے، وہ ان قوموں کو باقی قوموں سے بہت زیادہ عطا ہو گی، جن کو عیسائیت سے تعلق ہے اور سارے قرآن کریم میں قوموں اور مذاہب کے ذکر میں عیسائیت کے تعلق کے سوا کہیں اس شدت کے ساتھ اور اس زور کے ساتھ زینت کی نعمتوں کی عطا کا ذکر نہیں ملتا۔پس اس سے پتا چلتا ہے کہ عیسائی دنیا کو جو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی نعمتیں اور حسن عطا فرمایا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔اس آزمائش کا تعلق کس بات سے ہے۔کیوں ان قوموں کو منتخب کیا گیا ؟ اس کا تعلق دراصل اس مائدہ سے ہے۔جس کی دعا حضرت مسیح نے مانگی تھی۔حضرت مسیح کے حواریوں نے عرض کیا کہ اپنے خدا سے ہمارے لئے آسمانی نعمتیں مانگ، آسمانی نعمتوں کا دستر خوان اتارنے کی استدعا کر۔عیسائی دراصل اپنی لاعلمی میں اپنی دنیا پرستی کی وجہ سے اس مضمون کو ظاہر پر اطلاق کرتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ مسیح نے کوئی کھانا مانگا تھا، جو روٹی اتاری گئی آسمان سے اور وہ روٹی اپنے شاگردوں میں تقسیم کی اور بات ختم ہو گئی۔یہ بہت ہی بچگانہ تصور ہے، اس حقیقت کا جو ایک عظیم حقیقت ہے، جس کا تعلق محض مسیح کے اپنے زندگی کے دور سے نہیں، بلکہ عیسائیت کی تمام تاریخ سے ہے۔حضرت مسیح نے جو کچھ مانگا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے جوفرمایا، وہ حصہ ہے غور طلب۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نعمتیں دوں گا۔یہ نہیں فرمایا کہ ایک دستر خوان اتاروں گا صرف۔فرمایا، جو تو نے مانگا ہے، میں نعمتیں عطا کروں گا اور ایسی نعمتیں دوں گا، جو دنیا میں کسی اور کو نہیں دی گئیں لیکن اگر ناشکری کی گئی ، اگر ان نعمتوں سے غلط فائدہ اٹھایا گیا اور تو حید کو قربان کر دیا گیا، یہ مضمون اس میں مضمر ہے، تو پھر ان قوموں کو ایسی سزا دوں گا کہ جب سے دنیا بنی ہے، کبھی کسی قوم کو ایسی سزا نہیں دی گئی۔یہ وہ مضمون ہے، جس کو سورہ کہف نے پھر اٹھایا ہے اور یہ روشنی ڈالی ہے کہ جو زینت کی دنیا ان کو عطا ہوئی ہے۔اس سب کو ہم زائل کر دیں گے