خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 736
خطبات طاہر جلد 13 736 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء اور توفیق دی کہ اپنے مطالعہ کو وسیع کروں لیکن اب تو یہ میرا مطالعہ نہیں یہ ساری جماعت کا مطالعہ ہے جو ایک مرکز پر اکٹھا ہوتا ہے۔وہ کھیاں جو شہد کھاتی ہیں اس شہد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں شفا ہے، تو مومنوں کی روحانی غذا، ان کی روحانی ہی نہیں بلکہ جسمانی شفا کا بھی موجب بن جاتی ہے۔یہ ایک بڑا وسیع مضمون ہے جس پر ابھی تحقیق ہونے والی باقی ہے۔یہ ایک اور پہلو ہے جس پر میں نے بعض عمومی ہدا یتیں جماعت کو دی ہیں کہ اس طریق پر اس کی تحقیق کرو لیکن یہاں جس ذکر میں میں یہ بات کھول رہا ہوں وہ یہ ہے کہ شہد کی مکھیاں ، شہد کھاتی ہیں اور اس کا وہ نچوڑ جو ان کے نزدیک سب سے اعلیٰ ہے وہ ملکہ کے سامنے پیش کر دیتی ہیں اور علم کے مضمون میں یہ لطف کی بات ہے کہ خود بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں وہ لوگ ، اور پھر خلیفہ وقت کو بھی اس میں شامل کر لیتے ہیں اور ان کا ملکہ کے سامنے مکھیوں کی طرح وہ سب کچھ پیش کرنا انہیں محروم نہیں رکھتا۔پس روحانی علوم اور دنیاوی نعمتوں میں یہ بڑا فرق ہے۔دنیاوی نعمتوں میں آپ قربانی کر کے اپنا کچھ حصہ کسی اور دوست یا محبوب کے سامنے پیش کرتے ہیں جبکہ روحانی دنیا میں خواہ وہ تقویٰ کی باتیں ہوں یا علم کا مضمون ہو آپ جب کسی دوسرے کو اس میں شریک کرتے ہیں تو آپ کے علم یا آپ کی روحانیت میں کمی نہیں آتی بلکہ دوسرے کو فائدہ پہنچتا ہے اور آپ کو پھر مزید فائدہ پہنچتا ہے۔پس اس طرح جس علم کے متعلق بعض لوگ کہتے ہیں تم نے کیسے حاصل کیا۔میں نے کہاں سے حاصل کرنا تھا یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ایسی پیار کرنے والی محبت کرنے والی شہد کی مکھیوں کی طرح فدائی روحانی جماعت عطا فرما دی ہے کہ جو کچھ بھی ان کو ملتا ہے وہ اس میں مجھے شریک ضرور کرتے ہیں۔پس اس پہلو سے میں نے جماعت کو بارہا مختلف نصیحتیں کی ہیں کہ اس مضمون پر بھی غور کرواس مضمون پر بھی غور کرو۔اور مجھے جو محنتوں کا لمبا وقت میسر نہیں ہے اس کی کمی اس طرح پوری ہو جاتی ہے کہ ہزاروں آنکھیں ایسی ہیں جو مطالعہ کے وقت ہمیشہ یہ پیش نظر رکھتی ہیں کہ اس مطالعہ کا ماحصل جس کا کسی رنگ میں بھی جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہو ہم وہ خلیفہ وقت کو ضرور پہنچائیں اور جب وہ باتیں مجھ تک پہنچتی ہیں تو پھر میں ایسے تمام امور کو الگ رکھ لیتا ہوں اور اسے عام ڈاک میں نہیں جانے دیتا جب تک میں خود مطالعہ نہ کر لوں میری تسلی نہیں ہوتی۔پس اس پہلو سے جو میں نے آپ سے عرض کیا ہے، اس تمہید کی روشنی میں مجھے نئے سکالرز کی ضرورت ہے جو سورہ کہف کے مضامین پر غور کرنے کے