خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 732 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 732

خطبات طاہر جلد 13 732 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء کھانا کیونکہ یہ آزمائش کے لئے ہے کہ دیکھیں وہ کیسے عمل کرتے ہیں۔ایک بہت ہی خوب صورت طرز کلام ہے۔اصحاب کہف کے ذکر سے پہلے زمین کی سطح کی رونقوں کا ذکر فر ما دیا اور فرمایا کہ ہم نے کچھ لوگ ہیں جن کو بہت عظیم ترقیات عطا فرمانی ہیں اور فرما رہے ہیں یہاں تک کہ زمین پر جو کچھ بھی ہے وہ خوب صورت بنا دیا جائے گا اور بہت ہی دلکش صورت میں دنیا ان پر ظاہر کی جائے گی۔یہاں تک کہ اس دنیا کی محبت میں اور اس کے عشق میں غرق ہو جائیں گے اور سر تا پا اسی کے ہور ہیں گے اور بھول جائیں گے کہ یہ تو ان کے لئے آزمائش تھی اور یہ بھی بھول جائیں گے کہ ان کا آغاز بہت نیک تھا ان کے آبا ؤ اجداد میں ایسے عظیم خدا کے تو حید پرست بندے تھے کہ انہوں نے دنیا کی زمینوں کو تج دیا اور سطح زمین کو ترک کرتے ہوئے جانوروں کی طرح غاروں میں پناہ لینے کو قبول کر لیا۔یہ جو مضمون ہے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اس کا بہت کم علم اہل عرب کو تھا۔کیونکہ اکثر غاریں جن میں عیسائی تو حید پرست پناہ لیا کرتے تھے وہ دنیا کے علم سے غائب تھیں۔اگر چہ موجود تھیں ان پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی تھی اور بہت کثرت سے وہ ایسی غاریں ہیں جو اس زمانے میں جو پچھلی ایک دوصدیوں میں دریافت ہوئی ہیں اور مزید ان کے اوپر تحقیقات جاری ہے اور جتنی تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں قرآن کریم کے اس دعوے کی صداقت کے مزید ثبوت مہیا ہور ہے ہیں کہ وہ لوگ جوان غاروں میں پناہ گزین تھے وہ تو حید پرست تھے اور ان کا تثلیث سے کوئی تعلق نہیں تھا۔یہاں تک کہ تو حید کے آثاران غاروں میں مل رہے ہیں کہ عیسائی محققین کی دنیا اور یہودی محققین کی دنیا دو حصوں میں بٹ چکی ہے بعض کا خیال ہے کہ یہ عیسائی لوگ تھے ہی نہیں بلکہ وہ موحدین تھے جن کو اسپین“ کہا جاتا ہے جن سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا بھی تعلق تھا اور وہ اس فرقے کے ایک بہت بڑے بزرگ تھے ان کے نزدیک۔اور قرآن کے نزدیک وقت کے نبی تھے۔تو یہ کہنے والے کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے ان غاروں کے اندر سے جو چیزیں دریافت ہو رہی ہیں ان کا تعلق دو سو سال قبل مسیح سے شروع ہو کر سود و سو سال بعد تک کے زمانے سے ہو۔لیکن یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ان مرقومات میں جن کا ان غاروں سے تعلق ہے کسی قسم کا تثلیث کا کوئی دور کا شائبہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ایک مرد صادق کی بات کی جارہی ہے، ایک ایسا شخص جو خدا کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہوا اور پھر اس مرد صادق کے ذکر کے ساتھ اور بہت سی ایسی باتیں ہیں جو مسیح کے زمانے پر زیادہ اطلاق پاتی ہیں بہ نسبت