خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 725
خطبات طاہر جلد 13 725 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 1994ء مشک آنست که خود بگوید نه که عطار بگوید مشک تو وہی ہوتا ہے جو خود بولتا ہے۔اپنی خوشبو سے بتاتا ہے کہ میں مشک ہوں، کسی عطار کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ آکے کہے کہ یہ مشک ہے تو تب آپ مانیں۔پس اخلاق حسنہ خدا کی خوشبو رکھتے ہیں اور اخلاق حسنہ کا مشک خود بولتا ہے اور خود اپنے حق میں گواہی دیتا ہے۔پس اس پہلو سے اپنے اخلاق کو اسلامی اخلاق کے تصور کے مطابق ڈھالیں اور اس سے یکجان کر دیں تا کہ دونوں کے درمیان کوئی فرق باقی نہ رہے یہ کہنا آسان ہے۔کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ لمبی محنت کا تقاضا کرتا ہے اس لئے کہ بہت سے انسان خود اپنی اخلاقی حالتوں سے واقف نہیں ہوتے۔ان کو روز مرہ اپنے گھروں میں رہ کر ہی نہیں پتا چلتا کہ وہ کتنے بداخلاق اور انہوں نے اپنے اہل وعیال کو کیسی کیسی اذیتوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ان کو یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ ساری زندگی ان کے گھر میں ان سے نفرت کی جاتی ہے اور کیوں کی جاتی ہے۔محض معمولی چند بد اخلاقیوں کے نتیجے میں، بدتمیزی سے بولنا، بچوں کو اپنی مخلوق سمجھنا، ان کی چھوٹی سی کمزوری پر ان پر ایسے برس پڑنا جیسے وہ ان کے مالک اور خالق ہوتے ہیں اور جو چاہیں ان سے سلوک کریں۔یہاں تک کہ ایسے بچے پھر نفرتیں لے کر بڑے ہوتے ہیں اور بعض ایسی بچیاں ہیں جو ضائع ہو جاتی ہیں، گھر چھوڑ کر نکل جاتی ہیں اور ایسے معاشروں میں جہاں بے سہارا بچیوں کو شہ دی جاتی ہے وہاں ان کا مذہب بھی ہاتھ سے نکل جاتا ہے ان کے اخلاق بھی تباہ ہو جاتے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ ایک باپ بدتمیز تھا۔تو ایک باپ کی بدتمیزی نے ، دیکھیں کیسے کیسے بدیوں کے گل کھلائے اور لوگوں کو ہوش ہی نہیں آتی۔کئی سال ہو گئے ہیں مجھے یہ نصیحت کرتے ہوئے کہ خدا کے لئے اخلاق سیکھیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اب نصیحت اثر انداز ہوگئی ہو گی۔بعضوں پر ہو بھی جاتی ہے اللہ کے فضل سے لیکن اس کے باوجود یہ شکایتیں مسلسل ملتی چلی جارہی ہیں کہ کوئی خاوند اپنی بیوی کے حق ادا نہیں کر رہا، اپنے بچوں سے حسن سلوک نہیں کر رہا، کوئی اپنی بہنوں، اپنے بھائیوں کے حق ادا نہیں کرتے جائیدادوں پر نظر ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا نظر انداز ہو جاتی ہے اور اس کے باوجود با اخلاق بھی کہلاتے ہیں۔مذہبی بھی کہلاتے ہیں اور بظاہر عبادتیں بھی کرتے اور اپنے زعم میں عبادتوں کا حق بجالاتے ہیں۔پس وہ ساری عبادتیں جو قرب الہی کے حصول کا موجب ہوں وہ بنی نوع انسان کے بھی