خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 716
خطبات طاہر جلد 13 716 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 1994ء دوسرے سے گفتگو کرنا اور یہ تصور یہاں تک آ کر ٹھہر جاتا ہے جو گہرے انسانی روابط ہیں ان کو ادب نہیں سکھا تا اور انصاف اور احسان کے جو اعلیٰ تقاضے ہیں ان پر گفتگو نہیں کرتا بلکہ خاموش رہتا ہے۔پس ایک مہذب انسان ظاہری طور پر بہت ہی سلجھا ہوا اور صاف ستھرا انسان سوسائٹی میں ہر دلعزیز بن جاتا ہے۔لیکن جب اس کے معاملات بنی نوع انسان سے آزمائش میں پڑتے ہیں تو بالعموم اس کے اخلاق وہاں بے اثر ہو کر رہ جاتے ہیں یا اس کے اخلاق کی تعریف میں وہ باتیں داخل نہیں ہوتیں۔بہت سے مہذب گفتگو کرنے والوں کو میں نے دوسرے کے حقوق کھاتے ہوئے بھی دیکھا ہے بہت سے مہذب با اخلاق لوگوں کو اپنے بھائیوں کا حق مارتے بھی میں نے دیکھا ہے، اور جھوٹ بولتے دیکھا ہے، کئی قسم کی دوسری برائیوں میں ملوث دیکھا ہے لیکن بات وہ بڑی تہذیب سے کرتے ہیں۔پس دنیا کے ہاں جو اخلاق کا تصور ہے وہ اور ہے اور مذہب جو اخلاق سکھاتا ہے وہ بہت گہرے ہیں اور ہر قسم کے انسانی تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں کوئی ایک دائرہ تعلق انسانی ایسا نہیں ہے جس پر اسلام کے تصور اخلاق کا اثر نہ ہو۔پس اس پہلو سے جب میں آپ کو با اخلاق بنانا چاہتا ہوں یا با اخلاق دیکھنا چاہتا ہوں تو میں اپنی نظر سے نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی نظر سے آپ کو با اخلاق دیکھنا چاہتا ہوں اور اسی پہلو سے با اخلاق بنانا چاہتا ہوں۔آنحضرت ﷺ نے اخلاق کو سنوارنے کے لئے جو مختلف نصائح فرما ئیں ان کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔اگر چہ گنتی میں تو وہ شمار ہو سکتی ہیں لیکن بعض اتنی گہری اور اتنی وسیع الاثر ہیں کہ ان کے اندر ڈوب کر ان کے سارے مضمون کو پانا بھی اور سارے مضمون کو سمجھ جانا ایک بہت لمبے مطالعہ کا محتاج ہے۔اور گہرے مطالعہ کا محتاج ہے۔اس لئے وقتا فوقتا کبھی کبھی ان میں سے بعض احادیث کے بعض پہلو آپ کے سامنے رکھتا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حدیثیں اپنے مضمون میں وہیں ختم ہوگئی ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی آپ کے سامنے آغاز ہی میں انما الاعمال بالنیات کی حدیث رکھی تھی ، اس پر اگر آپ غور کریں، اس کے مضمون میں ڈوب کے ، پھر اپنے حالات کا جائزہ لیں ، اپنے ان تمام کاموں کا جائزہ لیں جو آپ نے زندگی بھر کئے اور ان سے پہلے دل میں وارد ہونے والی نیتوں پر غور کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ آپ کے بہت سے نیک کام نیت کے لحاظ سے بد تھے اور اس پہلو سے وہ خدا کے ہاں نا مقبول ہیں۔کئی لوگ نماز پڑھتے ہیں تو اس میں دکھاوے کا پہلو آ جاتا ہے۔کئی لوگ غریب