خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 715 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 715

خطبات طاہر جلد 13 715 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 1994ء سے آگاہ نہیں ہیں۔آنحضرت ﷺ کی زندگی کا صرف اس ایک حدیث کے پہلو سے آپ تجزیہ کر کے دیکھیں تو حیران و ششدر رہ جائیں گے کہ باقی دنیا کی اصلاح کا تو خیر معاملہ بہت ہی بڑا اور وسیع ہے اپنے گھر میں جو آپ نے حسن خلق دکھایا ہے جس جس موقع پر جیسے صبر سے کام لیا ہے اس کی مثال آپ کو دنیا میں اور دکھائی نہیں دے گی۔پس اخلاق کا سفر گھر سے شروع ہو کر گھر میں ختم نہیں ہوتا یا باہر سے شروع ہو کر گھر کے دروازے تک آ کر کھڑا نہیں ہو جاتا۔یہ گھر کو باہر سے ملاتا ہے اور باہر کوگھر سے ملاتا ہے اور یکسانیت پیدا کرتا ہے انسان میں۔جو سچا خلیق ہے اس کا دائرہ اخلاق نہ گھر تک محدود ہے نہ اپنے ہم مذاہب تک محدود ہے نہ اپنے ہم وطنوں تک محدود ہے یہ دائرہ اخلاق وہ ہے جو تمام عالم تک پہنچتا ہے اور اس کے محیط میں ہر انسان شامل ہو جاتا ہے۔یہ وہ اخلاق کا اعلیٰ معیار ہے جس پر اسلام آپ کو نافذ کرنا چاہتا ہے۔جس کو سمجھے بغیر آپ حقیقت میں احمدیت کے فلسفے سے ہی نا واقف رہیں گے۔اسلام اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں بہت پھیل چکا ہے تقریباً ایک ارب ایسے لوگ ہیں جو اسلام سے وابستہ ہیں اس کے باوجود احمدیت کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی۔چونکہ لاؤڈ سپیکر کا نظام صحیح کام نہیں کر رہا تھا اس لئے اس موقع پر حضور انور نے منتظمین کو اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: آپ کا لاؤڈ سپیکر صحیح کام نہیں کر رہایا بہت آواز میں دے رہا ہے یا خاموش ہو جاتا ہے۔کوئی بیچ بیچ کی راہ اختیار کریں یہ بھی اخلاق کی تعریف ہے کہ درمیانی رستہ اختیار کرو۔نہ بہت شور ڈالو نہ بالکل گم سم ہو جاؤ۔تو اللہ تعالیٰ آپ کے مائیکروفون اور لاؤڈ سپیکر کو بھی اخلاق حسنہ کی توفیق عطا فرمائے۔میں بات یہ بتا رہا تھا کہ اسلام میں جو اخلاق کی تعریف ہے وہ وسیع اور عالمگیر ہے اور کسی ایک حصے کا دوسرے حصے سے فرق نہیں کرتی۔اس پہلو سے چند ایک امور میں آپ کے سامنے خصوصیت سے رکھنا چاہتا ہوں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ مذہب جو اخلاق کا تصور پیش کرتا ہے اس کا دنیا کے اخلاق کے تصور سے ایک فرق ہے۔دنیا میں اخلاق سے مراد ہے Courtesy Civilised Behaviour مسکرا کے ملنا اور مسکرا کر بات کا جواب دینا، ادب سے ایک