خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 714 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 714

خطبات طاہر جلد 13 714 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 1994ء آپ کا ذوق اچھا ہے تو وہی باتیں اللہ کو پسند ہیں۔اگر آپ بد ذوق ہیں تو جو باتیں آپ کو پسند ہیں وہ اللہ کو نا پسند ہیں۔یہ موٹی سی صاف پہچان ہے۔پس اس پہلو سے اخلاق حسنہ کی ایک بہت بڑی اہمیت ہے وہ مذہب جو اخلاق حسنہ نہیں پیدا کر سکتا جو ایک با اخلاق قوم نہیں پیدا کر سکتا وہ کروڑ دعوے کرتا رہے کہ ہم باخدا انسان بنا دیتے ہیں، جھوٹا ہے یا وہ جھوٹا ہے یا اس کے ماننے والے جھوٹے ہیں۔مذہب سچا ہے مگر اس کے ماننے والے اس کو سچا سمجھ کر اس پر عمل نہیں کرتے۔پس اخلاق کی بہت بڑی قیمت ہے اس پہلو سے میں نے ایک دفعہ نور کر کے دیکھا تو دنیا کی کسی مذہبی تاریخ میں بھی کسی ولی کسی بزرگ کسی نبی کے متعلق یہ ذکر نہیں ملتا کہ وہ بداخلاق تھا۔ویسے تو نیک تھا مگر تھا بڑا بد خلق۔جو بد خلق ہے وہ بد بھی ہے اور خدا کے ہاں بدخلق مقبول نہیں ہوسکتا۔کبھی کسی نبی کا ذکر آپ نہ قرآن میں پڑھیں گے نہ دیگر مذہبی کتب میں جو خدا کے ہاں درجہ پا گیا ہو لیکن بدخلق ہو۔جیسا کہ میں نے بیان کیا بد خلق تو اپنے گھر میں عزت نہیں پاتا خدا کے ہاں اس کو کہاں عزت ملے گی۔تو اپنے اخلاق کی حفاظت کریں، اپنے اخلاق کو بلند کریں اور یہ احمدیت کی سچائی کا ایک ایسا زندہ ثبوت ہوگا جس کے نتیجہ میں جو ثبوت آپ کو مہیا ہو جائے تو ساری دنیا کا مولوی ہزار کروڑ گالیاں دیتار ہے دنیا اس کی بات نہیں سنے گی ، آپ کے خلق کی بات مانے گی۔پس وہ جماعتیں جو دنیا میں تبلیغ کرتی ہیں یا تبلیغ کے فریضے پر ان کو فائز فرما دیا گیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے، ان جماعتوں کولازم ہے کہ وہ اپنے اخلاق کی حفاظت کریں اور اخلاق کا آغا ز گھروں سے ہوتا ہے۔ہر نیکی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔بعض لوگ اس محاورے کو سمجھتے نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ نیکیاں گھر والوں سے ہی کرنی چاہئیں۔یہ مطلب نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ وہ نیکیاں جو باہر کی جائیں اور گھر والے اس سے محروم ہوں وہ نیکیاں نہیں ہیں کیونکہ نیکی کا سب سے پہلا اثر اس پر ہونا چاہئے جو قریب ترین ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا خیر کم خیر کم لاهله تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل ، اپنے گھر والوں سے سب سے اچھا ہے اور پھر فرمایاوانا خیر کم لاهلی (ترندی کتاب المناقب حدیث نمبر ۳۸۳۰) تم سب میں سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والا اپنے گھر والوں سے میں ہوں اور یہ بات بالکل سچی ،سو فیصدی حقیقت ہے بلکہ ایسی اعلیٰ درجے کی سچائی ہے جو نظروں کو خیرہ کر دیتی ہے اور بہت سے لوگ اس میں ڈوب کر اس کی حقیقت