خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 713

خطبات طاہر جلد 13 713 خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1994ء تو نفاست اپنے رب سے سیکھی ہے۔اگر اللہ میں یہ نفاست جس کو کہا جاتا ہے خلق کی نفاست یہ نہ ہوتی تو بندوں نے کہاں سے لینی تھی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی سیرت پر پیدا فرمایا ہے، اپنے خلق پر پیدا فرمایا ہے اس لئے ہر اعلیٰ خلق کے رستے سے آپ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مزاج کو پہچان سکتے ہیں اور مزاج شناسی کے بغیر دوستی نہیں بڑھ سکتی۔یہ ناممکن ہے کہ آپ اپنے گھر میں بھی اپنے عزیز ترین شخص کے مزاج سے ناواقف رہیں اور آپ کے تعلق گہرے اور استوار ہو سکیں۔مزاج شناسی ہی سے Appreciation پیدا ہوتی ہے اور اگر کوئی شخص کوئی حسن رکھتا ہے لیکن اس کی Appreciation نہیں ہو رہی، اس کے حسن کی قدر دانی نہیں ہو رہی تو ہمیشہ پیاسا اور محروم رہتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے مزاج کو آپ سمجھیں نہ اور یہ سمجھتے ہوں کہ آپ اس سے تعلقات قائم کرتے اور عبادت کے ذریعہ خوش کر رہے ہیں تو یہ آپ کی بڑی غلط فہمی ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض عورتیں بے چاری ساری زندگی بدامنی میں رہتی ہیں، بے سکونی کی حالت میں عمر گزار دیتی ہیں اور اپنے خاوندوں کے متعلق یہ کہتی ہیں کہ بہت شریف النفس ہے کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچائی لیکن عورت کے حسن سے ناواقف رہتے ہیں، اس کے اندر جو گہری خوبیاں ہیں، اعلیٰ اخلاق ہیں ان پر ان کی نظر ہی نہیں ہوتی اور بیوی اس طرح رہتی ہے گھر میں جیسے کوئی دوسری مخلوق ہو۔اس کے ساتھ خاوند اپنی شرافت کے نتیجے میں حسن سلوک تو کرتا ہے لیکن اس کی قدر نہیں پہچانتا۔پس وہ بیویاں جن کی قدر نہ پہچانی جائے انہیں کبھی زندگی میں گہر اسکون میسر نہیں آ سکتا اور آپ میں اگر کوئی خوبی ہو اور لوگ اس سے ناواقف ہوں ، بعض شعراء ہیں بیچارے بعض دفعہ ایسی مجلس میں چلے جاتے ہیں جہاں ان شعروں کا کوئی ذوق ہی نہیں ہوتا ان کے متعلق اگر آپ نے ان کو دیکھنا ہوان کا کیا حال ہے تو اس مجلس سے نکلتے دیکھیں۔انگریزی میں کہا جاتا ہے چمگادڑ جہنم سے نکلی“ ویسے ہی ان کا حال ہوتا ہے۔پر جھاڑتے ہوئے وہ مجلس سے اٹھتے ہیں کہ ایسے نامعقولوں سے واسطہ پڑا کہ کچھ مجھ نہیں آئی کسی کو کہ میں کیا کہہ رہا تھا۔چنانچہ یہ انسانی فطرت میں داخل ہے۔قدر شناسی انسانی تعلقات کا ایک لازمی حصہ ہے اور جہاں مزاج شناسی نہ ہو وہاں قدر شناسی نہیں ہو سکتی۔پس اللہ کے مزاج کو سمجھیں اور اللہ کے مزاج کو آپ اپنی فطرت پر غور کرنے کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں۔جو باتیں آپ کو پسند ہیں وہ اگر