خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد 13 711 خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1994ء غور و فکر کا موجب ہوگا ۔ وہ اب اپنے دلوں کو خوب کھنگال سکیں گے، اپنی نیتوں کو خوب اچھی طرح پر کچھ سکیں گے کہ آیا ہماری نیت میں محض دعا ہی تھی ۔ حصول دعا اور نیک کاموں میں آگے بڑھنے کی تمنایا میں کچھ دکھاوے کا پہلو بھی داخل ہو گیا تھا۔ اگر محض اللہ ایک اچھے کام کے اظہار کے لئے تمنا تھی کہ باقیوں کو بھی توفیق ملے اگر محض اللہ اس لئے اعلان کی خواہش تھی کہ سب دنیا کے احمدیوں کو یا دوسروں کو بھی جو خطبات سنتے ہیں دعا کی توفیق ملے تو یہ نیت تو آپ کی پوری ہو جائے گی اس میں ایک ذرہ بھی رخنہ نہیں پڑے گا۔ معمولی سا بھی فرق نہیں آئے گا کیونکہ وہ خدا جس نے دعائیں قبول کرنی ہیں اس خدا کے علم میں تو وہ سب جماعتیں ہیں، وہ ساری مجالس ہیں جن کے ہاں جلسے ہو رہے ہیں یا اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں لیکن اگر دکھا وا پیش نظر تھا تو پھر ایسے لوگوں کو ضرور تکلیف پہنچے گی اور ایسی تکلیف بھی بعض دفعہ اصلاح کا موجب بن جاتی ہے۔ یہ تمہیدی بیان ہے جو دراصل جماعت کی عمومی اصلاح کے لئے اب فی ذاتہ ضروری تھا۔ اس کا بظاہر تعلق تو جلسوں کے اعلانات سے ہے لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ ہر نیک کام میں چونکہ بد نیتوں کے داخل ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے اس لئے وقتاً فوقتاً اس کی یاد دہانی کرائی جاتی رہے تو جماعت کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ اب میں اس مضمون کو پھر لیتا ہوں جو کچھ عرصہ سے سلسلہ وار شروع ہے یعنی وہ اخلاق حسنہ جن کی اسلام مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے ہر مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اچھا تعلق ہو اور بنی نوع انسان سے اچھا تعلق ہو ۔ بنی نوع انسان سے جو تعلق ہے وہ ہم سب کی نظر میں ہوتا ہے، اللہ سے جو تعلق ہے وہ براہ راست دکھائی نہیں دیتا اس لئے وہاں صرف دعوے ہی دعوے رہ جاتے ہیں۔ کوئی مذہب اگر یہ کہے کہ ہم بندے کو خدا سے ملاتے ہیں تو یہ ایک دعوئی ہے۔ حسنه کسی کو کیا پتا کہ وہ مذہب خدا سے ملاتا بھی ہے کہ نہیں لیکن اگر کوئی مذہب یہ دعویٰ کرے کہ ہم اخلاق کی ترویج کے لئے قائم کئے گئے ہیں ۔ ہم اس لئے آئے ہیں تا کہ بنی نوع انسان کے باہمی تعلقات کو درست کریں اور پہلے سے بہتر بنا دیں تو یہ ایک ایسا دعوی ہے جو ہر کس و ناقص کو دکھائی دیتا ہے کہ کس حد تک پہنچا ہے۔ اور اس سے مذاہب کی شناخت، ان کی پہچان بہت آسان ہو جاتی ہے۔ پس دو پہلو ہیں ایک اللہ سے تعلق کا اور ایک بنی نوع انسان سے تعلق کا جو بظاہر جدا جدا ہیں۔ ایک وہ ہے جو ہمیں اس دنیا میں دکھائی دیتا ہے، ایک وہ ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ مگر ذرا بھی