خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 706 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 706

خطبات طاہر جلد 13 706 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء تمہارے ذریعے پوری کی جانی ہے۔پس اگر تم پھیلو گے نہیں تو کیسے یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔پس راولپنڈی کی جماعت ہو یا کوئی اور مظلوم پاکستان کی جماعت یا پاکستان کی جماعت بحیثیت عمومی ایک ہی علاج ہے جتنی بدبختی اور بے حیائی کے ساتھ یہ تم پر حملہ کرتے ہیں آج اسی کے مقابل پر ، بہت بہادری کے ساتھ مگر خدا کے حضور عاجزی کے ساتھ ، کامل انکسار کے ساتھ ، پورا تو کل رکھتے ہوئے تبلیغ کا جوابی حملہ کریں۔پھر اس راہ میں جو مشکلات ہیں اگر حکمتوں کے نقاضے پورے کرنے کے باوجود آئیں تو یہ شہادت ہے، یہ قربانیاں ہیں جن پر قوموں کے سر فخر سے بلند ہو جایا کرتے ہیں۔اس پر کوئی حرج نہیں، کوئی غم نہیں لیکن خدا نے جو شرطیں مقررفرمائی ہیں کہ حکمت کے ساتھ دعا کرتے ہوئے ،صبر کے ساتھ پیغام کو پھیلاتے چلے جاؤ اور کوئی پرواہ نہ کرو کہ اس کے مقابل صلى الله پر قوم کیا ردعمل دکھاتی ہے وہ کرو تو یقین جانو کہ خدا کی وہ ساری خوشخبریاں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کے ساتھ آخری زمانے میں وابستہ ہیں وہ تمہارے ذریعہ پوری ہوں گی اور خدا تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔اس راہ میں ظلم ہوں گے یہ مجھے علم ہے مگر وہ ظلم اور طرح کے ظلم ہیں۔یک طرفہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ظلموں کا نشانہ بنا یہ کیسا ظلم ہے؟ اس میں تمہیں کیا لطف آ سکتا ہے لیکن جب خدا کی خاطر اس پر تو کل کرتے ہوئے کمزور ہونے کے باوجود طاقت ور پر جوابی حملہ کرتے ہو پھر جو کچھ نقصان پہنچتا ہے وہ فخر کے لائق نقصان ہے، وہ لطف کے لائق نقصان ہے، ویسے نقصان بے شک اٹھاؤ کیونکہ اسی آیت کریمہ میں جس کی میں نے تلاوت کی تھی پھر آخر پر فرمایا گیا نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ اب تو ہمارا ساتھ ٹوٹنے کا ساتھ نہیں اس دنیا میں بھی ہم ساتھ ہیں اور آخرت میں تو ضرور ساتھ ہوں گے۔وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ دنیا کی جو نعمتیں ہیں، دنیا کے جو نقصانات ہیں ان کے غموں کا بھی ازالہ تو کیا جائے گا۔مگر جو تم چاہتے ہو جو تمہارے دل کی گہری تمنا ئیں مانگ رہی ہیں۔یہ ساری چیزیں تمہیں آخرت میں ملیں گی اور فرمایا دیکھو جن چیزوں کا ہم تم سے وعدہ کر رہے ہیں جانتے ہو ان کو کیا کہتے ہیں نُزُلًا مِنْ غَفُوْرٍ رَّحِيمٍ (السجدہ:33) غفور سب سے زیادہ بخشش کرنے والے، سب سے زیادہ رحم کرنے والے خدا کے تم مہمان بنائے جانے والے ہو اس کی طرف سے مہمانی ہو گی۔جتنا