خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 702
خطبات طاہر جلد 13 702 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء اور کچھ اپنے نفس میں شرافت کا مادہ رکھتے تھے اور انہی میں سے بعض ہیں جنہوں نے آنحضرت ملے کے متعلق بھی جب وہ طائف سے واپس مکہ تشریف لا رہے تھے یہ اعلان کیا کہ یہ میری پناہ میں داخل ہو رہا ہے وہ پناہ تو خدا کی تھی جس میں وہ داخل ہوئے تھے۔لیکن اس شخص میں یہ شرافت ضرور تھی کہ اس نے یہ اعلان کر دیا کہ کوئی کوشش بھی نہ کرے ان کو نقصان پہنچانے کی۔ایسے بہت سے مسلمان صحابہ تھے جن کو اپنی دوستی، ذاتی تعلقات، عمومی شرافت کی وجہ سے اہل مکہ کے رؤساء اپنی پناہ میں لے لیا کرتے تھے اور اس وجہ سے وہ روز مرہ کی تنگی جو بہت بڑھ سکتی تھی اس میں کمی رہی یا حد اعتدال سے آگے نہ گئی۔پس جماعت احمدیہ پاکستان کے ساتھ بھی یہ سلوک ہے اپنی بے اختیار بد دعاؤں میں یہ ظلم نہ کریں کہ ان شرفاء کو بھی نشانہ بنادیں۔ان کے لئے دعا کرنی چاہئے اور دعا یہ کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس سرزمین میں ایسے شرفا کو کثرت عطا فرمائے اور ان بدبختوں سے ایک ایسا نتھار کر الگ سلوک کرے کہ باقی دنیا کے لئے عبرت بن جائیں۔یہ بد دعا جو ہے یہ اس لئے جائز ہے کہ اس سے قوم کا فائدہ ہے، اس میں ملک کے بچنے کا امکان ہے۔اگر آپ کی یہ بددعا قبول نہ ہو اور خدا ان بد بختوں کو نتھار کر، الگ کر کے ان سے نمایاں طور پر مومنوں پر ہونے والے ظلم کا انتقام نہ لے تو پھر یہ خطرہ ہے کہ سارا ملک ہی ان کی نحوست کے نیچے پیسا جائے گا اور ایسا بھی ہوا کرتا ہے۔تو مجھے تو یہ خطرات دکھائی دے رہے ہیں یہ لڑنے والی حکومت ہو یا اپوزیشن ہوان کا اونچ نیچ تو ہوتا رہے گالیکن خدا کی ایک وہ تقدیر ہے جو اپنے ظالمانہ رویے سے غیر منصفانہ رویے سے یہ آسمان پر خود بنا رہے ہیں۔تقدیر تو اللہ کی ہے مگر اپنے جرائم سے بعض دفعہ بعض قو میں خاص قسم کی تقدیر کھوا رہی ہوتی ہیں اور فیصلہ تو حج ہی دیتا ہے مگر ایک معصوم کے حق میں اچھا فیصلہ دے رہا ہوتا ہے اور ایک بد بخت کے حق میں برا فیصلہ دے رہا ہوتا ہے۔ان معنوں میں مجرم پیشہ اپنا فیصلہ حج سے لکھوالیتا ہے۔تو دعا کریں کہ وہ فیصلہ نہ لکھا جائے جیسا کہ بغداد کے حق میں ایک دفعہ لکھا گیا تھا۔جب بغداد پر حملہ کیا گیا ہے تیمورلنگ کی طرف سے یا اور کسی ریاست جو روس کے جنوب میں واقع ہیں مسلمان ریاستیں ان میں ایک ازبکستان بھی ہے تاجکستان بھی ہے اور اس کے ساتھ منگولیا بھی ہے۔یہ وہ علاقہ ہے خاص طور پر ازبکستان کا علاقہ جہاں سے وہ Golden Hurds آئے ہیں ان کو سنہری حملہ آور قومیں قرار دیا جاتا تھا اور بار بار، پے بہ پے انہوں نے یلغار کی ہے جو یورپ تک بھی پہنچی ہے اور اتنے زبر دست