خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 695
خطبات طاہر جلد 13 695 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء درجے کی مخلوق بنائی۔جب وہ شریر مخلوق بن جائے اور اَسْفَلَ سَفِلِينَ کو جا پہنچے تو وہ ہر مخلوق سے زیادہ شریر ہو جاتی ہے اور یہ امر واقعہ ہے کہ جب انسان شرارت پر آئے تو کوئی دنیا کا جانور ایسا مضر نہیں رہتا جیسا کہ انسان شریر بن کر مضر ہو جاتا ہے۔ان سب کے شرور کو مدنظر رکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا شر من تحت ادیم السماء اور جہاں تک ان مساجد کا تعلق ہے جن میں یہ جشن منا رہے ہیں۔ان کے متعلق بھی ہماری غلط فہمی دور فرما دی جب فرمایا مساجدهم عامرة هي خراب من الهدى تم ان مسجدوں کو آباد دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری مسجد میں اجڑ گئیں اور ان کی مسجدیں آباد ہیں۔خدا کا رسول گواہ ہے کہ یہ مسجدیں ویران ہیں اور ہر وہ زمین جس پر خدا کے نیچے بندے عبادت کرتے ہیں وہی خدا کی آباد مسجد میں ہیں۔مساجد ہم ان کو خدا کی مسجد میں نہیں فرمایا ان کو اپنی مسجد میں نہیں فرمایا۔ان کی مسجد میں بظاہر تمہیں بھری ہوئی نظر آئیں گی جیسے آج پاکستان میں احراری مسجد میں غیر معمولی طور پر بھری گئی ہیں لیکن خراب من الهدى خدا کا وہاں کوئی ذکر نہیں ، ہدایت کا وہاں کوئی نشان نہیں ملے گا۔یہ وہ مخلوق ہے جو جس نے دیکھنی ہو پاکستان جا کر دیکھ سکتا ہے لیکن مجھے اس پر وہ علی گڑھ کے ایک مزاحیہ مشاعرے کا شعر یاد آ گیا۔وہاں ایک دفعہ کسی نے یہ طرح مصرع بنایا تھا جس کی طرز اس طرح تھی کہ دستیاب اتو ہیں“ اور ”محو خواب اتو ہیں“ اس پر بڑا زبر دست مشاعرہ علی گڑھ میں ایک دفعہ ہوا تھا اس میں ایک شعر تھا جو ابھی تک مجھے یاد ہے کہ: جس نے لینے ہوں لے علی گڑھ سے ان دنوں دستیاب الو ہیں بڑے الو ملتے ہیں وہاں جس نے لینے ہیں وہاں سے لے اور مشاعرے کی بات تھی واقعہ یہ ہے کہ پاکستان ہی سے یہ مخلوق دساور کو بھیجی جاتی ہے اور جس نے لینی ہو وہاں سے مطالبہ کر کے وہاں سے منگواتے ہیں۔یہاں تک کہ بنگلہ دیش میں بھی یہ مخلوق یہاں سے منگوائی جاتی ہے۔جب انگلستان کا معاملہ ہو تو یہاں بھی پاکستان ہی سے یہ مخلوق پہنچتی ہے۔تو دیکھیں وہ شعر، جو ایک لطیفے کی بات تھی ایک دردناک کہانی کے طور پر اس بد بخت مخلوق کے اوپر صادق آ رہا ہے۔آج جمعہ کے دن جشن منائے جارہے ہیں کہ ہم نے بابری مسجد کی تاریخ کو دہرایا ہے۔لیکن ایک اور فرق بھی ہے وہاں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مشرک عدالت نے تو حید کے