خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 685
خطبات طاہر جلد 13 685 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 ستمبر 1994ء تمہارے خادم ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری نگرانی میں دیا جس شخص کے ماتحت اس کا بھائی ہو وہ اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے اپنے غلاموں سے ان کی طاقت سے زیادہ کام نہ لے اگر تم کوئی مشکل کام ان کے سپرد کر دو تو اس کام میں خود بھی ان کا ہاتھ بٹاؤ اور ان کی مدد کرو (مسلم کتاب الایمان باب اطعام الملوک مما یا کل ولباسه مما یلبس )۔یہ جو تر جمہ ہوا ہے میرے نزدیک اس میں کچھ کمزوری ہے قرآن کریم کی آیت مِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ کا مضمون ہے دراصل جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے اور دوسری حدیثیں اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ مراد نہیں ہے کہ بعینہ وہی کھانا کھلایا جائے ، بعینہ وہی کپڑے پہنائے جائیں بلکہ مراد یہ ہے جیسا کہ دوسری احادیث میں بات مزید کھولی جاچکی ہے کہ ان کو وہ کھانا بھی کھلایا کرو جو تم کھاتے ہو یعنی ضروری نہیں کہ سو فیصدی وہی کھانا کھلایا جائے مگر اس کھانے سے محروم نہیں رکھنا اور اگر زیادہ نہیں تو کچھ تو ضرور ان کو اس میں سے دو تا کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کی ہانڈی الگ پک رہی ہے اور ان کو پتا ہی نہیں کہ ہمارے مالک کیا مزے اڑا رہے ہیں۔پس جو کھانا اچھا پکتا ہے اس میں سے کچھ ان کو بھی ضرور دو اور جو کپڑے تم اچھے پہنتے ہو کچھ ان کو بھی ایسے پہنا دیا کرو تا کہ وہ ان نعمتوں میں تمہارے کچھ شریک ہو جائیں۔یہ وہ مضمون ہے جو مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کے تابع ہے اور آنحضرت ﷺ کی تمام نصیحتیں چونکہ قرآن پر مبنی ہیں اس لئے بعض احادیث کی تشریح ان قرآن کی آیات میں مل جاتی ہے جہاں سے وہ مضمون اخذ فر مایا گیا ہے۔پس کوئی یہ نہ سمجھے کہ اگر بالکل سو فیصد، برابر، بعینہ وہی کھانا اور وہی کپڑے نہ پہنائے گئے تو نعوذ باللہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی ہو جائے گی بلکہ صلى جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دوسری احادیث میں یہ مضمون خوب کھولا جا چکا ہے۔عام طور پرحسن سلوک کرنا اور حتی المقدور اپنی نعمتوں میں اپنے غریب بھائیوں کو شریک کرنا خصوصیت سے ان ملازموں کو جو گھر میں رہتے ہیں۔موسم کے پھل آتے ہیں تو ان کو بھی کھلائے جائیں اچھے کھانے پکتے ہیں تو ان کو بھی وہ کھلائے جائیں تا کہ وہ اپنے آپ کو ادنی مخلوق نہ سمجھیں اور آپ کو خدا تعالیٰ ایک متکبر کے طور پر رڈ نہ کر دے اور اپنی نظر سے گرانہ دے۔پس جو اپنے خادموں اپنے نوکروں کی عزت افزائی خدا کی خاطر کرتا ہے اس کی عزت افزائی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کی نصیحت فرمائی گئی ہے اور حضرت ابو ذر چونکہ