خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 683
خطبات طاہر جلد 13 683 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 /ستمبر 1994ء جماعت کا زور چلا ہم ضرور کروا کے چھوڑیں گے۔اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کام ہوا یا نہیں مگر اس کے بعد دونوں کی طرف سے مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی۔تو میں یہ بات اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ یہ زمیندارہ، چھوٹی چھوٹی گھٹیا باتیں جماعت کے اعلیٰ کردار کے مخالف اور معاند ہیں۔مخالف اور معاند اس لئے کہ جماعت کے دوسرے اخلاق کو بھی یہ بداخلاقیاں چاٹ جاتی ہیں اور ان کی دشمن ہو جاتی ہیں پس اس لئے جماعت کو اپنے کردار میں وہی اعلیٰ پاک نمونے قائم کرنے چاہئیں جن کی حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے غلاموں سے توقع ہے اور یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ اس کا اسی مضمون سے تعلق ہے۔خدا تعالیٰ نے بڑی سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے ان لوگوں سے جو نمازیں پڑھنے کے باوجود بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کے معاملے میں اپنی مٹھیاں بند کئے رہتے ہیں اور ماعون سے مراد ماء پانی والا ماء نہیں ہے بلکہ عین سے ہے۔ماعون۔يَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ کا مطلب ہے روز مرہ کی ہمسایوں کی ضرورتیں چھوٹی موٹی باتوں میں جہاں تکلیف ہوتی ہے ہمسائے کو۔کوئی حاجت روائی کے لئے آ جاتا ہے یا کوئی آٹا مانگ لیا، کسی وقت کوئی آگ طلب کر لی۔یہ وہ چیزیں ہیں جو ماعون سے تعلق رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ مصلی ، وہ نماز پڑھنے والے جن کے کردار کا یہ عالم ہو کہ اپنے بھائیوں کے چھوٹے چھوٹے فائدے بھی روک دیں یہاں ان کے حقوق کا سوال نہیں ہے اپنی ملکیت سے معمولی فائدہ بھی لوگوں کو نہ پہنچائیں فرمایا ان پر ہلاکت ہے۔وَيْلٌ لِّلْمُصلین ایک ہی جگہ ہے جہاں نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ڈالی گئی ہے اور وہ یہ جگہ ہے الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ فرمایا اس لئے کہ وہ نماز تو پڑھتے ہیں لیکن نماز کے مضمون سے غافل ہیں۔اس کی غرض و غایت سے بے خبر ہیں۔الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ یہ وہ لوگ ہیں جن کی نمازیں محض دکھاوے کا ذریعہ بن جاتی ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اور پھر نیچے یہ نماز کے فیض سے ایسے محروم رہ جاتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے اپنے فیوض سے بھی اپنے بھائیوں اور اپنے ہمسایوں کو محروم رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر آسمان کے دروازے بند کئے جاتے ہیں اور یہاں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا وہ لوگ مراد ہیں جو نمازیں پڑھ کر بظاہر خدا کے حکم کی اطاعت بھی ضروری سمجھ رہے ہیں اور دین سے بے تعلق نہیں ہوئے کچھ نہ کچھ تعلق اللہ سے موجود ہے، ان کو سزا پھر ملتی ہے اور بعض دفعہ تو ہلاکت کی سزا ملتی ہے۔جیسا کہ