خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 682

خطبات طاہر جلد 13 682 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 ستمبر 1994ء وہ ایک ذرہ بھی اس کے بعد اصرار نہیں کرتے جس پر ان کو خدا کے نام سے روکا جارہا ہو لیکن جہاں خدا کی مرضی کے خلاف اللہ تعالیٰ کا نام استعمال ہورہا ہو جہاں ان باتوں میں اللہ کا نام استعمال کیا جائے جہاں خدا نے حق نہیں دیا وہاں محض خدا کے نام کی خاطر رکھنا اللہ تعالیٰ کے نام کی عزت افزائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مخالف حرکت کرنا ہے۔پس یہ جو دو حدیثیں ہیں ان سے کوئی شخص تصادم سمجھتے ہوئے یہ نہ سمجھے کہ رسول اکرم نے تو ایسا نمونہ دکھایا تھا اور حضرت عمر خلیفہ ہونے کے باوجود خدا کا نام سننے کے بعد بھی رکے نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ مجھے تمہارے پیٹ پر سے بھی نالی گزارنی پڑی تو ضرور نکالوں گا۔یہ بہت ہی اہم بات ہے۔حضرت عمر کا یہ فیصلہ آنحضرت ﷺ کے مزاج کے مطابق ہے اور قرآنی تعلیم کے مطابق ہے ایک بھائی دوسرے بھائی کو جو فائدہ پہنچا سکتا ہے اس سے نہیں رکنا چاہئے لیکن اگر وہ اپنے عام معاملات میں رکتا ہے تو یہ الگ مسئلہ ہے لیکن جہاں تک انسان کے انسان پر حقوق ، ریاست سے تعلق رکھتے ہوں جہاں ان حقوق میں ریاستی دستور کا مضمون داخل ہو جائے اور ایک Civil Right کا مضمون ہو وہاں ریاست کے مالک کا یا حکمران کا فرض ہے کہ Civil Right کو خدا کی تعلیم کے مطابق جاری کرے۔پس آج کل ہمارے ملکوں میں یہ ہوتا ہے بعض دفعہ ایک امیر آدمی کے کھیت سے کسی غریب آدمی کی نالی نکلنی ہوتی ہے وہ گورنمنٹ منظور بھی کر لیتی ہے وہ انکار کر دے تو کچھ پیش نہیں جاتی حالانکہ اگر حقیقی اسلامی روح ہو تو حکومت کا فرض ہے کہ یہ جائزہ لے کہ اگر کسی بھائی کا فائدہ پہنچ رہا ہے اور کسی کا معمولی نقصان ہے جو ایک نالی نکالنے کے نتیجے میں طبعا ہونا ہے تو اس کو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ روک دے۔میرے پاس ایک دفعہ ایک شکایت ملی چند احمدی گھرانوں کی طرف سے کہ فلاں احمدی دوست ہیں اچھے بھلے کھاتے پیتے اور صاحب حیثیت ، ہم نے حکومت سے نالی منظور کروائی وہ اجازت نہیں دیتے تو میں نے ان سے پتا کر وایا تو بات وہی تھی کہ معمولی نقصان کی خاطر ایک بھائی کے بڑے فائدے سے ان کو روکا جار ہا تھا تو میرے پاس تو ریاستی اختیارات نہیں ہیں مگر میں نے ان کو پیغام بھجوا دیا کہ اگر آپ نے ایسا کیا تو میرے آپ سے ذاتی تعلقات ٹوٹ جائیں گے اور اس کے علاوہ میں جماعت کو کہوں گا کہ ہر ممکن اس شخص کی مدد کرے اور جہاں تک