خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 681 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 681

خطبات طاہر جلد 13 681 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 ستمبر 1994ء ترندی کی ہے اور دم والی حدیث جو بیان کی تھی یہ مسلم کتاب الاسلام سے لی گئی تھی اور جہاں کہیں بھی تم ہو تقوی اختیار کرو یہ حدیث جو ہے یہ ترمذی کتاب البر سے لی گئی تھی۔اب ایک حدیث امام مالک کی موطا سے لی گئی ہے۔حضرت امام مالک رحمہ اللہ بکلی معرفی رضی اللہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ضحاک بن خلیفہ نے مدینہ کی ایک وادی سے پانی کی ایک نالی نکالنی چاہی تا کہ اپنے کھیت سیراب کر سکے۔یہ نالی محمد بن مسلمہ کی زمین میں سے ہو کر گزرتی تھی۔محمد بن مسلمہ نے اس کی اجازت نہ دی ضحاک نے اس سے کہا کہ تم کیوں روکتے ہو تمہارا بھی اس میں فائدہ ہے پہلے تم اپنی زمین کو پانی دے دینا اور بعد میں وہ بھی فائدہ حاصل کر سکتا ہے تمہارا کوئی نقصان نہیں لیکن محمد نے کہا بس میری مرضی ہے میری زمین ہے میں اجازت نہیں دیتا۔ضحاک نے حضرت امیر المومنین عمر بن الخطاب کی خدمت میں اس مشکل کا ذکر کیا آپ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور کہا کہ وہ ضحاک کی بات مان لے لیکن محمد بن مسلمہ نے مسلسل انکار کیا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جب تمہارا بھی اس میں فائدہ ہے اور نقصان نہیں ہے تو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے سے کیوں روکتے ہو لیکن وہ اپنی بات پر اڑے رہے اور یہ کہا خدا کی قسم میں ان کو ہرگز اجازت نہیں دوں گا یعنی خدا کی قسم کھالی تا کہ حضرت عمر اس نام کے خیال سے مزید اصرار نہ کریں۔اب پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ خدا کی اگر قسم کھائی جائے تو اس پر وہ جو خدا کی محبت رکھتا ہے یا خدا کا غیر معمولی احترام دل میں رکھتا ہے وہ تو رک جایا کرتا ہے۔کیا حضرت عمر اس قسم کی وجہ سے رک گئے؟ ہر گز نہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ نالی اگر تمہارے پیٹ پر سے بھی گزارنی پڑے تو میں اسے ضرور جاری کرواؤں گا اور جاری کروائی کہ تم ہوتے کون ہو بنی نوع انسان کے فوائد کی راہ میں حائل ہونے والے؟ اب اس مضمون میں دوباتیں ہیں جو قابل توجہ ہیں ایک موقع پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ہے کا عقد کسی سے ہوا۔یہ وہ بدنصیب خاتون ہیں جو پھر ازواج مطہرات میں داخل نہیں ہوسکیں اور صلى الله آنحضور ﷺ جب کمرے میں داخل ہوئے تو اس نے کہا کہ میں خدا کے نام پر تمہیں اپنے پاس آنے سے روکتی ہوں۔آنحضور ﷺ نے اسی وقت قدم روک لیا اسی وقت دروازے سے باہر چلے گئے اور وہ معاملہ ایسے ہو گیا جیسے وہ کالعدم تھا اس کا کوئی وجود نہیں تھا تو جہاں خدا کے نام کی عزت کا تعلق ہے جہاں تک کسی شخص کے اپنے ذاتی حقوق کا تعلق ہے جن کو اللہ کے نام کی غیرت ہے اس سے محبت ہے