خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 671
خطبات طاہر جلد 13 671 خطبه جمعه فرمود و 2 /ستمبر 1994ء کاروبار کرتا ہے خصوصا سور اور شراب کا کاروبار کرتا ہے اس پر رسول کریم ﷺ نے لعنت ڈالی ہے اور اس سودے کو ملعون قرار دیا ہے۔اس لئے بار بار نصیحت کی کہ اس سے باز آ جاؤ اور پہلا قدم یہ اٹھایا گیا کہ میں نے کہا کہ میں ایسے لوگوں کا چندہ جماعت کے لئے وصول نہیں کروں گا۔اگر انہوں نے صلى الله ایسی زندگی بسر کرنی ہے کہ ایسا رزق اپنے لئے اپنا لیتے ہیں جس پر رسول الله و لعنت ڈال چکے ہیں تو ٹھیک ہے اپنی ذات پر، اپنے بچوں پر یہ حرام رزق خرچ کرتے رہیں جماعت کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ہم یہ نہیں لیں گے۔ایک لمبا عرصہ تک ان سے یہ سلوک رکھا گیا جب کہ جماعت کی طرف سے مجھ پر بار بار دباؤ ڈالا گیا کہ یہ لوگ اب ڈھیٹ ہو چکے ہیں جنہوں نے تو بہ کرنی تھی کر لی ہے جن تک بات پہنچی تھی پہنچائی گئی ، بار بار پہنچائی گئی۔جنہوں نے اثر قبول نہیں کیا ان کے لئے اب کچھ اور قدم اٹھانا چاہئے۔میں ان سے کہتا تھا جماعت میں شرافت ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ شرافت کام آئے گی ناراضگی کا اظہار ہوگا تو آہستہ آہستہ باز آجائیں گے لیکن افسوس کہ ہمبرگ کے ریجن میں خصوصیت سے ایسے بد نصیب سارے جرمنی میں سب سے زیادہ موجود ہیں جن پر یہ نیک نصیحتیں اثر انداز نہیں ہوئیں۔ایک موقع پر ایک دفعہ ایک شریف انسان کسی دوکان سے ایک بڑا سودا کر کے آیا، چیزیں لے لیں اور پیسے کہا کہ بعد میں پہنچ جائیں گے اور ایک دو تین مہینے گزر گئے اس کو بل نہیں آیا۔آخر وہ دکاندار کے پاس پہنچا۔اس نے اس کو پیسے بھی ادا کئے اور پوچھا کہ آپ نے تین مہینے تک اتنی خاموشی اختیار کی مجھے بل ہی نہیں بھیجا، یاد دہانی نہیں کرائی۔تو دکاندار نے کہا میں شرفاء کو یاد دہانی نہیں کرایا کرتا۔مجھے پتا ہے کہ شرفاء خود ہی خیال رکھتے ہیں تو اس نے کہا اگر کوئی نہ دے اور نہ ہی دے تو اس نے کہا پھر میں یہ سمجھتا ہوں کہ شریف انسان نہیں ہے پھر اس کو یاد دہانی کرواتا ہوں۔تو جب اتنی لمبی مدت گزرگئی اور میں نے آپ کے اندر شرافت کے کوئی آثار نہیں دیکھے یعنی ان لوگوں میں جن کو یہ لمبے عرصے تک مہلت دینا، ان کو ہلاکت سے بچا نہیں سکا تو آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ امیر صاحب جرمنی سے جیسا کہ میں نے رستے میں بات کی تھی ایسے وہ لوگ جن کو مہلتیں دی گئیں اور وہ ہٹ دھرمی سے اس بات پر قائم ہیں ان کے اخراج از جماعت کا اعلان کر دیں اور اب ان کی مرضی ہے انہوں نے دنیا قبول کرلی ہے تو دنیا میں رہیں۔آئندہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی