خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 663

خطبات طاہر جلد 13 663 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 رستمبر 1994ء کوئی ہوتا نہیں وہ تو مصنوعی خریدار ہوتا ہے اور یہ جو رواج ہے یہ بہت سا بعض یورپین جو نیلامی کی مارکیٹیں ہیں ان میں بھی راہ پا گیا ہے اور وہاں بھی کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مصنوعی طور پر بولی بڑھائی جاتی ہے اور بعض میں جب وہ چیز اپنے ہی خرید لیں جنہوں نے اصل میں خرید نا نہیں تو پھر دوبارہ وہ اگلی دفعہ آپ منڈی میں جائیں گے تو پھر وہی لگی ہوگی تو یہ دھوکے بازیاں ہیں تکلیف کی چیزیں ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیمت بڑھانے کی خاطر بولی نہ دی جائے اور مصنوعی طور پر سجا کر چیز نہ پیش کی جائے۔میں نے آپ کو پہلے بھی قصہ سنایا تھا وہ ہے لطیفہ لیکن بات دل نشین کرنے کے لئے اچھا دلچسپ واقعہ ہے۔ایک شخص ایسی ہی منڈی میں اپنی گھوڑی بیچنے کے لئے لے گیا۔گھوڑی کیا تھی ٹو تھی بالکل۔برا حال، کھال ہڈیوں سے چمٹ کر سوراخوں میں داخل ہوئی ہوئی پسلیاں گئی جاتی تھیں تو کسی نے اس کو مشورہ دیا کہ تم ہمارے بیچنے کے دستور کو تو سمجھو، منڈیوں کے آداب سمجھو، پھر لے کر جاؤ۔بیوقوفوں والی بات ہے اس طرح لے کر تم جا رہے ہو کون دام ڈالے گا۔تو اس نے کہا پھر تم مجھے بتاؤ میں کیا کروں۔اس نے کہا اس کو مایہ ( کلف) لگا کر تو دھوپ میں کھڑا کر دو۔جب وہ اکڑے گی مایہ ( کلف) تو اس کی کھال تن کر جس طرح مرے ہوئے گدھے کی کھال ہو جاتی ہے اس طرح وہ پھول کر سارے اس کے اوپر عیب ڈھانپ دے گی اور تنی ہوئی کھال میں اندر گھنے کی تو گنجائش ہی کوئی نہیں ہوتی تو اچھی گھوڑی ، مضبوط ، تو انا دکھائی دے گی، جاکے بیچ دینا۔اچھا بھلا سودا ہو جائے گا۔اس بے چارے نے کچھ مایہ پر سرمایہ لگایا اور کافی لگا دی اور جب وہ منڈی پہنچا تو پوری گھوڑی پھولی ہوئی جس طرح اپھارہ ہوا ہو اس طرح اس کی شکل بنی ہوئی اور دیکھنے والے دیکھتے تھے۔پتا بھی لگ رہا تھا کہ مایہ لگی ہوئی ہے۔یہ تو نہیں کہ صحت مند گھوڑی اور مایہ والی گھوڑی میں فرق ہی نظر نہ آئے تو لوگ آ کے دیکھ کے چلے جاتے تھے۔آخر ایک گاہک پڑا اس نے آگے پیچھے سے پھر کر دیکھا ، دلچسپی لی اور اس نے کہا کہ شکر ہے کہ اب تو کچھ سودا ہوا۔اس نے کہا کتنی قیمت لیتے ہو۔اس نے کہا تین سو روپے۔اس نے کہا تین سو تو میں دے دوں گا مگر ابرق نہیں لگایا تم نے ، اگر ابرق بھی ساتھ لگا دیتے تو بڑی خوب صورت گھوڑی نظر آتی۔تو یہ لطیفہ ہی ہے اصل میں، لیکن ایسا دردناک لطیفہ ہے جو ہمارے ماحول پر صادق آتا ہے۔ہماری ہر منڈی کا کردار یہی ہے۔ابرق لگانا بھول جائیں تو بھول جائیں