خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 661
خطبات طاہر جلد 13 661 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 رستمبر 1994ء پر الگ دکھاؤ۔پھر جو سودے ہوں ایک آدمی تاجر پھر کے دیکھتا ہے وہ موازنہ صحیح کرسکتا ہے۔پھر جو سودا کرتا ہے وہ آنکھیں کھول کر کرتا ہے۔یہ معلوم کر کے کہ مجھ میں کس قیمت پر بیچنے کی استطاعت ہے لیکن بعض بد نصیب ایسے ہوتے ہیں جو وہاں سے الگ الگ ستھرا مال لاتے ہیں اور یہاں آ کر ملا دیتے ہیں۔چنانچہ پاکستان میں میں نے یہ بھی دیکھا ہے بعض زمیندار جو آلوؤں کی یا پیازوں کی کاشت کرتے ہیں خاص طور پر بہت بڑے بڑے ایسے زمیندارے ہیں جو ساہیوال وغیرہ کی طرف رواج پاچکے ہیں وہاں ارائیں مہاجرین زیادہ تر ان کاموں میں سب سے آگے بڑھے ہوئے ہیں اور ایسے فارمز بھی ہیں میں نے جا کر دیکھے ہیں بہت ہی صاف ستھرے فارمز ہیں بے انتہا محنت کی گئی ہے اور اس کے نتیجے میں عام آلو کے مقابل پر بہت بڑے بڑے سائز کا آلو پیدا ہوتا ہے بہت اچھا پیاز وغیرہ وغیرہ پھر وہ ان کو قرینے سے الگ الگ لگاتے ہیں اور الگ الگ بوریوں میں الگ الگ قیمتوں کے ساتھ منڈی میں پہنچاتے ہیں۔وہاں تاجر خریدتے ہیں۔بعض چنیوٹ لے کر آتے ہیں بعض ربوہ لے جاتے ہیں، کوئی لالیاں لے جاتے ہیں اور پھر دوبارہ محنت کرتے ہیں بڑوں کے ساتھ موٹوں کے ساتھ چھوٹوں کو ملا دیتے ہیں اور گڈ مڈ کر کے پھر بے چارے ایک اور محنت کرتے ہیں پھر موٹے موٹے بعض نکال کر اوپر رکھ دیتے ہیں۔جو محنت بے چاروں نے کی ، جو شرافت کا سلوک کیا، سب کا ستیا ناس کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم کما رہے ہیں۔ایک تو خدا کا عذاب کما رہے ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خدا کی ناراضگی کما رہے ہیں یہ تو درست ہے مگر عملاً زیادہ دیر تک یہ تاجر پہنپ نہیں سکتے۔صاف پتا چل جاتا ہے لوگوں کو ایک سودا ہوا ، دوسودے ہوئے ، بالآ خر تھک کر لوگ ان لوگوں سے منہ موڑ لیتے ہیں اور جو تا جر صاف ستھرا ہو، جس کی بات کا اعتماد ہو، جس کا مال وہی ہو جو وہ بیان کرے اس کی تجارت ضرور پنپتی ہے اور بالآخر وہی تاجر ہے جو سب دوسروں پر غالب آ جاتا ہے۔پس خدا کی رضا کا سودا کرنا ہو یا دنیا کے تجارت کے اصول سیکھنے ہوں تو سودا سکھانے والا ایک ہی ہے یعنی محمد مصطفی عمل ہے۔ہر قسم کے سودوں کے گر آپ کو محمد رسول اللہ سے ملیں گے اور ان گروں کو سمجھ کر دل میں لگا کر اپنا لیں گے تو پھر آپ کا تعلق اولین سے بنے گا۔پھر وہ پل تعمیر ہوں گے جن کے ذریعے اولین اور آخرین ملا دیئے جائیں گے اور ضرور ملائے جانے ہیں ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت بالکل بے کار اور بے معنی ہو جاتی ہے اور یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ