خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 654
خطبات طاہر جلد 13 654 خطبہ جمعہ فرمود و 2 /ستمبر 1994ء پس ترقی کی خاطر اور ان اعلیٰ مراتب کو حاصل کرنے کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر کر رکھے ہیں مگر ہاتھ بڑھانا اور چند قدم اس طرف بڑھانا ہمارا کام ہے۔آپ پر لازم ہے کہ اخلاق مصطفوی کو اپنائیں اور ان سے چمٹ جائیں، اسے وہ رسی سمجھ لیں ، وہ عروہ سمجھ لیں جس پر ہاتھ ڈالا جائے تو پھر وہ یا تو الگ نہیں ہو سکتا۔اخلاق مصطفوی کو ایسا اپنی جان سے لگا لیں اس مضبوطی کے ساتھ اس پر ہاتھ ڈال دیں کہ پھر دنیا کی کوئی طاقت اس ہاتھ کو اخلاق مصطفوی سے جدا نہ کر سکے۔یہ وہ مضمون ہے جو میں بیان کر رہا ہوں اور اس کی اہمیت بار بار بیان کرنی پڑتی ہے، بار بار تمہید آپ کے سامنے پیش کرنی پڑتی ہے تا کہ آپ محض اس کو ایک عام درس نہ سمجھ لیں ، اس اعلیٰ مقصد کے ساتھ ہمیشہ اس کا ربط پیش نظر رکھیں اس کا تعلق ہمیشہ آپ کے سامنے رہے۔پھر ان باتوں کو سنیں اور ان باتوں پر عمل کی کوشش کریں۔لین دین کے معاملات ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مجھے جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی ہمیشہ تکلیف دہ خبریں ملتی رہتی ہیں۔ایسے افراد کی شکائتیں آتی ہیں بعض دفعہ اپنے بعض دفعہ غیر کرتے ہیں بعض دفعہ غیر احمدی مسلمان کرتے اور بعض دفعہ غیر مسلم بھی طعنہ دیتے ہیں۔چنانچہ ہندوستان سے بعض دفعہ مجھے غیر مسلموں کے طعنے ملے کہ ہم نے سنا تھا آپ کی جماعت بہت خدا ترس جماعت ہے، نیک جماعت ہے اور اس جماعت کے اس فرد نے تو ہم سے یہ معاملہ کیا۔جب تحقیق کروائی گئی تو اس غیر مسلم کی بات سچ نکلی۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جماعت احمدیہ میں جماعت سے تعلق قائم رکھنے کا اتنا گہرا جذ بہ ہے کہ اگر ان کو یہ خطرہ محسوس ہو بعض انسانوں کو جو بعض باتوں میں کمزوری دکھاتے ہیں کہ اس کے بعد ہماری علیحدگی ہے تو پھر وہ حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ علیحدگی کی نوبت نہ آئے۔تو ایسے لوگوں کو جب میں نے لکھا اور ان کو علم ہوا کہ بات مجھ تک پہنچ چکی ہے تو کسی کمیشن بٹھانے کی ضرورت نہیں پڑی، کسی اور جھگڑے کو طول دینے کی ضرورت نہیں پڑی از خود انہوں نے استغفار کیا ، توجہ کی ، وہ رقمیں جود با بیٹھے تھے ادا کیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو خطرناک ٹھوکر سے نجات پانے کی توفیق ملی۔یہاں جرمنی سے بھی ایک دفعہ ایک ہندو عورت نے مجھے لکھا کہ فلاں شخص پر جو جماعت احمدیہ کا نمبر ہے میں نے احسان کیا، اس کے ساتھ حسن معاملہ کیا اور اس نے پھر یہ مجھے بدلہ دیا کہ اتنے میرے پیسے دبا کے بیٹھ گیا ہے۔جب اس کی ضرورت تھی محض