خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 647 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 647

خطبات طاہر جلد 13 647 خطبه جمعه فرمود و 26 راگست 1994ء انسان فوت ہو تو بعض دفعہ مسجدوں میں اعلان کرنے پڑتے ہیں اور یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس پر میں خود گواہ ہوں۔مجھے یاد ہے ربوہ میں بعض دفعہ سخت گرمی میں ظہر کے وقت ایک جنازہ آتا تھا اور لوگ سلام پھیر کر چونکہ وہ شخص معروف نہیں ہوتا تھا اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے اور اعلان کرنے والا بے چارہ اعلان کرتارہ جاتا تھا کہ جنازے کے لئے آدمی نہیں مل رہے آپ آئیں اس شخص کا جنازہ پڑھیں اور جنازہ پڑھتے بھی تھے تو رخصت ہو جاتے تھے۔پڑھ کر ساتھ دفنانے کے لئے نہیں جاتے تھے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کتنے شفیق اور مہربان تھے کہ مسلمانوں کی سوسائٹی کی تفصیلی ضروریات پر نظر تھی زندوں کی ضروریات پر بھی نظر تھی بیماروں کی ضروریات پر بھی نظر تھی اور ان کی ضروریات پر بھی جو شیطان بن جایا کرتے تھے اور زندوں سے مردوں میں چلے جایا کرتے تھے۔پس مرنے کے بعد کے حقوق بھی آپ نے کھول کھول کر ہمارے سامنے رکھے اور میں جانتا ہوں اس زمانے میں جس کی میں بات کر رہا ہوں بہت سے ایسے مخلصین تھے نو جوان بھی اور بوڑھے بھی کہ ایسے جنازوں کے ساتھ ضرور جاتے تھے اور وہی ہیں در حقیقت جو آنحضرت مے کی اس نصیحت کو سمجھتے اور اس کا حق ادا کرنے والے تھے اور وہی چند لوگ ہیں جو ساری امت کے لئے کفایہ ہو جایا کرتے تھے۔پس آپ اس بات کو بھی خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اور دل میں جاگزیں کرلیں کہ جب غریب مرتا ہے تو اس کا بھی یہی تقاضا ہے، جب بے سہارا مرتا ہے تو اس کے بھی کچھ حقوق ہیں آپ پر۔ان حقوق کو ادا کرنا امت مسلمہ کا فرض قرار دیا گیا ہے اور اپنے غریب سے غریب بھائی کا بھی اتنا حق تو ضرور ادا ہونا چاہئے کہ جب کوئی مرجائے تو کم از کم اس وقت بھی اس کی مصاحبت کریں۔اگر زندگی میں آپ کو مصاحبت کی توفیق نہیں ملی تو مرنے کے بعد ہی سہی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی شخصیت کے یہ دو پہلو ہیں جو ایک ہی شخصیت میں ابھرتے ہیں۔جو شخص غریبوں کی عیادت کرنے کا سلیقہ رکھتا ہے وہ مردے کے حقوق ادا کرنے کا بھی سلیقہ رکھتا ہے۔جو زندوں کو چھوڑ دیا کرتا ہے وہ مردوں کو بھی چھوڑ دیا کرتا ہے۔پس اس بات کو بھی رواج دینا بہت اہم ہے کہ اپنے غریب بے سہارا لوگوں کے جنازوں میں بھی شامل ہوں اور یہ ساری نصیحت در حقیقت بالآخران لوگوں کے حقوق کی طرف توجہ دلا رہی ہے جو سوسائٹی کا سب سے کمزور حصہ ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ یہ بھی اس کا حق ہے اس پر فرض ہے کہ اس کی دعوت کو قبول کرے۔اب امیر