خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 644
خطبات طاہر جلد 13 644 خطبه جمعه فرموده 26 راگست 1994ء سی باتیں ہیں کیا فرق پڑتا ہے ان کے کرنے سے اور ان سے کیا نمایاں تبدیلی سوسائٹی میں ہوسکتی ہے، مگر ایک ایک کر کے اس پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ ایسی نصیحتیں ہیں سوسائٹی کی کایا پلٹ سکتی ہیں۔سب سے پہلے فرمایا کہ سلام کا جواب دینا۔اب آپ کو کوئی السلام علیکم کہتا ہے تو وعلیکم السلام کہہ ہی دیتے ہیں مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ سلام کا جواب دینا تو آپ مجس رنگ میں سلام کا جواب دیا کرتے تھے وہ مجسم دعا ہوا کرتی تھی محض منہ سے وعلیکم السلام نہیں کرتے تھے۔پس حضوراکرم سے جو باتیں سنتے ہیں یہ یاد رکھیں کہ آنحضور ان باتوں کو خود کس رنگ میں بجالاتے تھے اور کس رنگ میں وہ بات خود کیا کرتے تھے۔ایک ایسا شخص جس کو سلام کہا جائے وہ بعض دفعه خود بخود بغیر سوچے سمجھے وعلیکم السلام کہ دیتا ہے اور پورا لفظ بھی ٹھیک نہیں بولتا و علیک سلام اور بعض دفعہ سر ہلا دیتا ہے کہ ہاں ٹھیک ہے مجھے سلام پہنچ گیا ہے۔گویا وہ بڑا مرتبہ رکھتا ہے اور سلام کہنے والا چھوٹا مرتبہ رکھتا ہے مگر آنحضور نے ہمیشہ سلام کو دعا کے طور پر لیتے تھے اور دعا کے رنگ میں اس کا جواب دیتے تھے۔پس ہر دفعہ جب آپ وعلیکم السلام کہتے ہیں یا السلام علیکم کہتے ہیں تو آپ کے دل سے اگر یہ تمنا واقعہ اٹھتی ہے کہ اس شخص کو سلامتی نصیب ہو اس شخص پر اللہ کی سلامتی کا سایہ رہے تو ایسا شخص آپ کے شر سے بھی خود بخود محفوظ ہو جاتا ہے کیونکہ سچے دل سے دعا کرنے والا اس کے برعکس نہیں چاہ سکتا۔پس اگر غور کر کے آپ سلام کو رواج دیں اور سلام کا جواب سلام میں دل کی گہرائی سے دیں تو یہ قطعی بات ہے کہ بچے دل سے وعلیکم السلام کہنے والا کبھی اس شخص کے حق میں شرکی بات نہیں سوچ سکتا جس کو وہ سلام کی دعا دیتا ہے ورنہ وہ اول درجے کا منافق ہوگا، ورنہ اس کا جواب حقیقت میں جواب نہیں بلکہ ایک منافقت کا اظہار بن جاتا ہے تو آپ نے فرمایا حق ہے مسلمان کا تم اس کے سلام کا جواب دو یعنی اس کو دعا دو اور اسے سلامتی کا یقین دلا ؤ اور اس کے لئے سلامتی کی دعا مانگو۔پھر فرمایا کہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو ہمارے ہاں عیادت کا رواج ہے مگر مسلمان کے حق کے طور پر نہیں بلکہ بڑے آدمی کی عیادت کی جاتی ہے، دوست کی عیادت کی جاتی ہے اور کسی کا سوسائٹی میں کوئی مرتبہ ہو یا کوئی اپنا قریبی ہو تو اس کی عیادت کی جاتی ہے۔آنحضرت ﷺ یہ نہیں فرما رہے کہ اپنے دوستوں کی عیادت کرو اپنے سے بڑے لوگوں کی عیادت کرو۔آپ فرماتے ہیں مسلمان کا حق ہے کہ اس کی عیادت کی جائے۔پس اگر کوئی ایسا غریب انسان ہے، بے سہارا ہے،