خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 643 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 643

خطبات طاہر جلد 13 643 خطبه جمعه فرموده 26 اگست 1994ء یہ ہے کہ فصاحت و بلاغت کی تعریف سے ایسا شخص ناواقف ہوتا ہے فصیح و بلیغ کلام کی تعریف یہ ہے کہ موقع اور محل کے مطابق ہو۔پس وہی نصیحت فصیح و بلیغ ہے جو بظاہر الفاظ سے مرصع نہ ہو اور ظاہری الفاظ کی سجاوٹ اس میں نہ پائی جائے مگر اس کے اندر Penetrate ہونے کی ، سرایت کرنے کی صلاحیت پائی جائے۔وہ چند سادہ الفاظ بڑے بڑے فصیح و بلیغ کلام پر بھی فوقیت لے جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہی انداز تھا چھوٹی چھوٹی باتوں میں اتنا گہرا اثر ہوتا تھا کہ وہ دل سے نکلتی تھیں اور دلوں میں ڈوب جاتی تھیں۔یہ جو میں نے کہا ہے دل سے نکلتی تھیں اور دلوں میں ڈوب جاتی تھیں یہ اس کا سب سے اہم پہلو ہے کیونکہ وہ نصیحت جو دل سے نہ نکلے وہ دلوں میں ڈوبنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہر نصیحت دل سے اٹھتی تھی اور لا زما دل تک پہنچتی تھی۔دوسری اہم بات آپ کی نصیحتوں میں یہ ملتی ہے کہ آپ کی ہر نصیحت آپ کے کردار سے اٹھتی تھی۔صرف دل سے نہیں اٹھتی تھی آپ کے کردار سے اٹھتی تھی اور کردار پر اثر انداز ہو جایا کرتی تھی۔زندگی بھر آپ نے کبھی ایک ادنی سی بات بھی ایسی نہیں فرمائی جو آپ کے کردار کا ایک لازمی حصہ نہ ہو اور کسی ایسی بدی سے نہیں روکا جس سے آپ کا نفس پاک نہ ہو۔پس نصیحت کے لئے جو سب سے زیادہ مؤثر دو محرکات ہیں وہ آپ کی نصیحتوں میں ملتے تھے اول یہ کہ دل سے اٹھتی تھی اور لا ز ما دل پر اثر انداز ہوتی تھی۔دوسرے کردار سے اٹھتی تھی اور لاز ما کردار پر قبضہ کر لیتی تھی۔پس ان دو پہلوؤں سے اپنی نصیحتوں کو طاقت عطا کریں۔آنحضرت ﷺ کی چند پاک نصیحتوں پر میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔یہ وہی سلسلہ ہے جو میں نے پہلے سے شروع کر رکھا ہے۔آنحضور نے ایک موقع پر فرمایا کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے پانچ حق ہیں۔سلام کا جواب دینا، بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرنا ، فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شامل ہونا، اس کی دعوت قبول کرنا اور اگر وہ چھینک مارے اور الحمد للہ کہے تو اس کی چھینک کا جواب مرحمک اللہ کی دعا کے ساتھ دینا۔ایک روایت میں ہے کہ جب تو اس سے ملے تو اسے سلام کہے اور جب وہ تجھ سے خیر خواہانہ مشورہ مانگے تو خیر خواہی اور بھلائی کا مشورہ دے۔( بخاری کتاب الاستیذان : 5766) اب آپ نے یہ جو نصیحتیں سنی ہیں اکثر آپ میں سے یہ سمجھتے ہوں گے کہ عام چھوٹی چھوٹی