خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 636
خطبات طاہر جلد 13 636 خطبه جمعه فرمود و 26 راگست 1994ء طرح معلوم ہوتی ہے اور جب تک وہ جوابی پتھر نہ مار لیں اس وقت تک ان کو چین نہیں آتا حالانکہ نصیحت کرنے والا عاجز، منکسر المزاج، صاف بات کرنے والا ہوتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں خاندانی جھگڑے چل پڑتے ہیں۔ایک آدمی نے کسی سے کہا یا کسی عورت نے کسی دوسری عورت سے کہا کہ بی بی تمہارا بچہ یہ حرکت کر رہا تھا اسے سمجھاؤ اسے بُری باتوں سے باز رکھو تو نتیجہ یہ نکلا اور جو میں باتیں کہہ رہا ہوں یہ فرضی باتیں نہیں عملاً مجھ تک پہنچنے والے قصے ہیں مجھ تک پہنچنے والے واقعات ہیں۔نتیجہ نکلا کہ اس نے جو ابا اس کو بڑی سخت گالیاں دیں۔اس نے کہا تمہارے اپنے بچوں میں ہزار عیب ہیں اور یہ ہیں اور وہ ہیں اور جو عیب نہیں تھے وہ بھی گنوائے خبر دار ہو جو تو نے میرے بچوں کی طرف اس آنکھ سے دیکھا ! تو ہوتی کون ہے کہ میرے بچوں میں کیڑے ڈالے؟ یہ اس قدر جہالت ہے کہ اس خوفناک جہالت میں کڑوے اور تھوہر کے پھل تو نشو ونما پاسکتے ہیں لیکن کوئی اچھا شریف پودا ایسے Soil پر نشو و نما نہیں پا سکتا۔ہر Soil کا ایک مزاج ہوتا ہے ہر زمین کا ایک مزاج ہوتا ہے اور جس زمین کو Cultivate کر کے تیار کیا جاتا ہے اس زمین میں اچھے پودے نشو و نما پاتے ہیں۔پس جس طرح باغوں کی دیکھ بھال کے لئے ضروری ہے کہ زمین کو خوب تیار کیا جائے کہ اچھے درختوں اور پھل دار درختوں کی نشو ونما میں وہ زمین خوب مدد گار ثابت ہو۔ایسی ہی زمینیں ہیں جو اچھے پھل لاتی ہیں جہاں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہترین فصلیں اُگتی اور بنی نوع انسان کے لئے بھلائی کا موجب بنتی ہیں۔پس جماعت احمدیہ کی مثال بھی ایسی ہی ہے اور قرآن نے یہی مثال ہے جو جماعت احمدیہ کی دی ہے۔كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْعَهُ فَازَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ : فتح: 30) آپ کی مثال ہی خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک کھیتی کی سی دی ہے۔پس کھیتی کی مثالیں دے کر آپ کو سمجھانا کچھ تعجب کی بات نہیں ہے۔پس مہربانی فرما کر اپنے اندر نصیحت کو پنپنے کے لئے ماحول تیار کریں۔ہر اچھی بات کے نتیجے میں جھک کر بات کریں ، شکر یہ ادا کریں اور یہ نہ دیکھیں کہ وہ شخص کون ہے اور کیسے بات کر رہا ہے اور ہر نصیحت کرنے والے کا فرض ہے کہ نصیحت کے وقت طعن و تشنیع سے کلیۂ پاک ہو اور ایسی بات کرے جس میں اس کی ذات کے تکبر کا ، انا کا شائبہ تک بھی نہ رہے ، جھک کر بات کرے، پیار سے