خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 635
خطبات طاہر جلد 13 635 خطبه جمعه فرموده 26 اگست 1994ء سلیقے خوب باریکی سے سمجھیں اور پہچانیں پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ سوسائٹی میں سے کس طرح جلد جلد بدیاں دور ہونی شروع ہوں گی اور خوبیاں ان کی جگہ لینے لگیں گی۔قرآن کریم نے ہمیں یہ اسلوب سکھایا ہے کہ اگر کوئی تمہیں اچھی بات کہے تو اس سے بہتر بات میں اس کا جواب دو۔اگر کوئی تحفہ دیتا ہے تو اس سے بہتر تحفہ اس کو دو۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں تو فیق نہیں کہ ہر تحفہ دینے والے کو اسی طرح جنس کے لحاظ سے بہتر تحفہ دے سکو تو پھر دعا کرو اور اتنی دعا کرو کہ تمہارا دل مطمئن ہو جائے کہ تم نے اس تحفے کا حق زیادہ بہتر رنگ میں ادا کر دیا ہے۔( ابوداؤد کتاب الزکاۃ ) پس نیک نصیحت کرنے والا بھی تو نیک بات کہہ رہا ہے اس کو الٹ کر دل کو چر کا لگانے والی باتیں کرنا حسن خلق کے خلاف ہے، اسلامی تعلیم و تربیت کے منافی ہے۔پس یہ دیکھیں کہ کسی نے آپ کو اچھی بات کہی ہے یا بُری کہی ہے اگر اچھی کہی ہے تو آپ کا فرض ہے کہ آپ اس اچھی بات کو بہتر رنگ میں اسے واپس کریں نہ کہ بُرے رنگ میں اور تکلیف دہ رنگ میں واپس کریں۔اور اگر بُری بات کہی ہے تو بُری بات کے نتیجے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اسوہ یہ تھا کہ صبر اختیار فرماتے تھے اور صبر کے ساتھ بُری باتوں کو برداشت کرنے کی کوشش کرتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات دینی غیرت کے تقاضے جواب دینے پر آپ کو مجبور کر دیا کرتے تھے جو ایک الگ مضمون ہے لیکن ہر تلخی کو آپ نے حو صلے اور صبر کے ساتھ برداشت فرمایا۔پس یہ وہ سوسائٹی کا Soil ہے یعنی یہ وہ سرزمین ہے جو نیک باتوں کی نشو و نما کے لئے تیار کی جاتی ہے اگر نیک باتیں، نیک نصیحتیں سننے والے اچھا رد عمل دکھا ئیں گے تو یہ ایک زرخیز زمین بن جائے گی جہاں ہر پیج جو گرتا ہے وہ اُگے گا اور نشو و نما پائے گا اور اگر اس زمین میں صلاحیتیں ہوں تو بُرے بیج کو قبول کرنے کی بجائے اسے رد کر دے گی اور محض نیکی کا بیج ہے جو قبول کرے گی اور وہ اس کی نشو ونما کا موجب بنے گی۔پس میں اس وقت جماعت کی عمومی سرزمین کی فکر میں ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ جماعت کی زمین ایک ایسے زرخیز Soil یعنی وہ زمین یا کھیت جن میں چیزیں اُگتی ہیں ایسے زرخیز کھیتوں میں تبدیل ہو جائے کہ جس کے نتیجے میں امر بالمعروف ایک عام رواج پا جائے اور نہی عن المنکر کہنے والا یہ خوف نہ کرے کہ اس کے ساتھ جوابا بختی کا سلوک کیا جائے گا۔بعض لوگ تو ایسی سختی کا سلوک کرتے ہیں کہ قطع نظر اس کے کہ نیک نصیحت کرنے والا واقعہ عمل پیرا ہے یا نہیں ان کو نصیحت کی بات پتھر کی