خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 632

خطبات طاہر جلد 13 632 خطبه جمعه فرمودہ 26 اگست 1994ء کسی بھلائی کی طرف بلاتا ہے اس کی اپنی ذات میں اگر وہ نیکی ہو بھی تو بعض دفعہ اس کے بچوں میں نہیں ہوتی ؟ اس کے حلقہ احباب میں کسی میں نہیں ہوتی، اس کی بیوی میں نہیں ہوتی۔اس کے عزیزوں میں نہیں ہوتی۔ایسی صورت میں اسلامی طریق کیا ہے؟ آنحضرت ﷺ کا طریق کیا تھا؟ آنحضور ﷺ نے کبھی بھی کسی نصیحت کرنے والے کو تحقیر سے نہیں دیکھا اور تحقیر سے اس کے ساتھ سلوک نہیں فرمایا۔بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے آنحضور کو نصیحت کی اور ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ ایسا واقعہ ہوا اور جس بات کی نصیحت کی وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ میں اس سے بہت زیادہ پائی جاتی تھی یہاں تک کہ کوئی نسبت ہی نہیں تھی۔ایک دفعہ ایک یہودی نے آنحضرت ﷺ کو تلقین کی کہ لین دین کے معاملے درست رکھو اور مالی معاملات اپنے صاف کرو۔اب آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر اور کون ایسا ہوسکتا تھا بلکہ یہاں تک طعنہ دیا کہ آپ کے خاندان کا یہی طریقہ ہے کہ لوگوں کے پیسے لے لیتے ہیں اور پھر واپسی کا نام نہیں لیتے۔صحابہ بہت مشتعل ہوئے۔بعض اس یہودی کی طرف لپکے کہ اسے سزا دیں مگر آنحضرت ﷺ نے انہیں روک دیا اور صبر کی تلقین فرمائی۔صرف اتنا کہا کہ ہاں اس کا میں نے کچھ دینا ہے ابھی اس کی ادائیگی کر کے مجھے بری الذمہ کیا جائے۔چنانچہ آنحضور ﷺ نے نہ صرف اس مطلوبہ مال کی ادائیگی فرمائی بلکہ اس سے بڑھ کر دے دیا۔پس آنحضرت ﷺ کی زندگی میں بھی بسا اوقات ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جب آپ کو نصیحت کرنے والا خود آپ کے مقابل پر ان باتوں میں بہت کمزور اور کچا ہوتا تھا جیسا کہ آنحضرت نے کسی کو صبر کی نصیحت فرمائی کسی کو اور باتوں کی نصیحت فرمائی۔اس نے الٹ کر آنحضور کے او پر یہ حملہ کیا آپ کو کیا پتا صبر کیا ہوتا ہے؟ جس پر غم پڑے وہی جانتا ہے کہ صبر کیا ہوتا ہے۔مگر آنحضرت ﷺ نے کبھی ایسے شخص کو ڈانٹا نہیں، کبھی ایسے شخص کو جواب میں طعنہ نہیں دیا کہ تم اپنی حیثیت تو دیکھو اور دیکھو کہ مجھ سے باتیں کر رہے ہو جو ان تمام خوبیوں میں مکارم اخلاق پر فائز کیا گیا ہے، جو اخلاق کی بلند ترین چوٹیوں پر قدم رکھتا ہے۔کبھی ایک دفعہ بھی آپ نے جواہا نہیں فرمایا بلکہ خاموشی اور صبر کے ساتھ اس نصیحت کرنے والے کی دل آزاری کو بھی برداشت کیا۔پس یہ بھی ایک پہلو ہے جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور جرمنی کی جماعت میں اس کی خصوصیت سے ضرورت ہے اگر ایک عہدیدار اپنے عہدے کی مجبوری سے ایک