خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 629
خطبات طاہر جلد 13 629 خطبه جمعه فرمودہ 26 اگست 1994ء اس کو اچھالتے ، اچانک نشانہ لیتے ، اسی طرح شکاری جو ہوائی نشانہ لینے کی مشق کرتے ہیں وہ کم و بیش روزانہ ہی خالی بندوق سے کھیلتے رہتے ہیں خواہ سامنے کوئی شکار نہ ہو۔تو نیک بات کی طرف بلانا اور نیک نصیحت کرنا دو مقاصد رکھتی ہے۔ایک یہ کہ اپنی آپس میں تربیت کی جائے دوسرے یہ کہ تمام دنیا کو بھلائی کی طرف بلایا جائے جن لوگوں کو روزمرہ ان ہتھیاروں کے استعمال کی عادت نہ ہو وہ دوسری قوموں کو بھی اس طرف بلانے کا سلیقہ نہیں جانتے۔وہ لوگ جو روز مرہ گھروں میں اس خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے ہتھیار کو صحیح طریق پر استعمال کرنے کی پریکٹس نہیں کرتے ان لوگوں کو باقی دنیا میں بھی ان کو استعمال کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔پس یہ جو قرآن کریم نے نصیحت فرمائی ہے بہت ہی اہم ہے۔اتنی اہم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ جو نیکیوں کی طرف نہیں بلاتے ، جو بدیوں سے روکتے نہیں ہیں ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کشتی میں سوار کچھ لوگ ہوں جس کی ایک اوپر کی منزل ہو اور ایک نیچے کی منزل ہو۔نیچے کی منزل والے اس کشتی کی تہہ میں سوراخ کر رہے ہوں اور اس پر اوپر کی منزل والے روکیں نہیں کہ ہمیں کیا یہ تو نیچے کی منزل میں ہونے والا واقعہ ہے۔نتیجہ جب وہ سوراخ ہو جائے تو ان سب نے بہر حال غرق ہونا ہے۔قوموں کی زندگی ، قوموں کی بقاء کا مسئلہ ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اس طرح اس کو سمجھا اور سمجھایا۔پس جماعت احمدیہ کو اس بات کو روز مرہ کا شیوہ بنا لینا چاہئے کہ اچھی باتوں کی طرف بلانا شروع کرے اور اچھی باتوں کا حکم دیا کرے اور بُرے کاموں سے روکا کرے۔اس سلسلے میں کچھ احتیاطیں ہیں، اس خدا تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرنے کے کچھ اسلوب ہیں، کچھ تقاضے ہیں، جن کو نظر انداز کر کے ہم اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں يَأْمُرُونَ کا جو لفظ فرمایا گیا ہے اگر چہ اس میں حکم کا مضمون پایا جاتا ہے مگر آنحضرت ﷺ نیک کاموں کی طرف حکما نہیں بلایا کرتے تھے بلکہ ساتھ دل پر اثر کرنے والی نصیحت کے ذریعے لوگوں کو نیکی کی تلقین فرماتے تھے اور اگر کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اس کو سزاد ینے کا کبھی آپ نے ارادہ نہیں فرمایا بلکہ آپ کا دل اس کی حالت پر مغموم ہو جایا کرتا تھا جو نیک بات سن کر بھی اس پر عمل نہیں کرتا۔پس عمل سے مراد یہاں نصیحت کرنا ہے نہ کہ حکم کے ساتھ صلى الله