خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 622 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 622

خطبات طاہر جلد 13 622 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 راگست 1994ء ایک بے حد تڑپ پیدا ہو جاتی ہے، ایک بے قرار تمنا اس کے دل سے اٹھتی ہے کہ ایسے پیارے دین کو میں کیوں نہ سیکھوں، کیوں اس میں مزید ترقی نہ کروں، کیوں نہ ان حکمت کی باتوں پر عمل پیرا ہو جاؤں۔پس عمل کا ایک گہرا تعلق عقیدے کے یقین سے ہے اور عقیدے کے یقین کا گہرا تعلق گہری فہم سے ہے۔جو عقیدہ گہری فہم کے بغیر ہو اس کا نام چاہے آپ یقین رکھتے پھریں وہ یقین نہیں ہے وہ ایک تصور کا خیال ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔جو گہرا فہم ہو جائے ، اچھی طرح بات سمجھ لیں اس سے یقین پیدا ہوتا ہے اور جب یقین پیدا ہوتا ہے تو پھر ایسے شخص کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔وہ لازماً اس کے فوائد سے بھی آگاہ ہو جاتا ہے۔اس کے انکار کے نقصانات سے بھی آگاہ ہو جاتا ہے۔فوائد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔نقصانات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔پس جماعت احمد یہ اس دور میں داخل ہوتے ہوتے اب وہاں پہنچ گئی ہے کہ یوں لگتا ہے اس آیت کی سرزمین کے مرکز میں ہم جا پہنچے ہیں اس آیت کے مضمون نے چاروں طرف سے ہمیں گھیر لیا ہے اب کسی مزید التواء کا موقع نہیں رہا ، کسی تاخیر کا ہمیں حق نہیں رہا۔لازم ہے کہ معا اس آیت کے مضمون کا تفقہ کر کے اس کو تفصیل کے ساتھ سمجھنے کے بعد اس کے مطابق وہ تربیت گاہیں قائم کریں جہاں ہر ملک میں اور اگر ایک ملک میں ضرورت ہو تو ایک جگہ سے زائد تفقہ کے مراکز قائم ہوں۔اس میں نئے آنے والوں کو بلایا جائے اور باری باری مختلف گروہ آتے جائیں اور سبق سیکھ کر واپس چلتے چلے جائیں اور یہ جو تربیتی کلاس ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ اب سارا سال کی ہو گی۔اب یہ اعلان نہیں ہو گا کہ آج کشمیر میں ہو رہی ہے۔آج افغانستان میں ہو رہی ہے۔آج پاکستان میں ہو رہی ہے۔پھر تو ساری دنیا کی کلاسوں کے متعلق مستقل دعا کرنی پڑے گی۔اللہ تعالیٰ انگلستان کی کلاسوں کو بھی کامیاب فرمائے اور جرمنی کی کلاسوں کو بھی اور سویڈن اور ڈنمارک کی بھی اور افریقہ میں سیرالیون کی کلاسوں کو بھی اور گھانا کی کلاسوں کو بھی ، نائجیر یا کو بھی۔کتنے نام ہر جمعہ میں لے سکتا ہوں ایک سو بیالیس تک تو پہنچ چکے ہیں اور ان کے اندر بھی بے شمار کلاسیں ہوں گی تو یہ کلاسیں لگائیں اور مستقل جماعت ان کلاسوں کے لئے دعا کرے اور ان کے لئے کوشش کرے۔اس کے لئے چونکہ ہمارے پاس ابھی وہ فوج تیار نہیں ہوئی جس کا نام وقف نو کی فوج ہے اس لئے ضروری ہوگا کہ عارضی طور پر صاحب علم اپنے آپ کو وقف کریں اور صاحب علم خواتین اپنے