خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 621 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 621

خطبات طاہر جلد 13 621 خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1994ء کردہ حکمتوں کا یوں حلیہ بگاڑ کے رکھ دیتے ہیں اور جب ان کو سمجھایا جاتا ہے تو قہقہے مارتے ہیں ، ہنستے ہیں ، مذاق اڑاتے ہیں لیکن ان مولویوں کا اپنا یہ حال ہے کہ یہ ان عقیدوں کو دل سے تسلیم نہیں کرتے اگر کرتے ہیں تو جو میں کہ رہا ہوں وہ سب کچھ کر دکھاتے۔ایک عظیم قوم کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہو اور اس سے اس طرح انسان ہلکے پھلکے انداز سے سلوک کرے کہ ٹھیک ہے جی مر گیا تو مر گیا، زندہ ہے تو زندہ ہمیں کیا۔تمہیں کیا! تم نے مرجانا ہے اگر وہ مرگیا تو۔وہ نیچے آئے بغیر مر گیا تو تم سارے زمین پر پڑے پڑے مر جاؤ گے کیونکہ تمہاری زندگیاں اس کی ذات کے ساتھ وابستہ ہیں۔تو اس کو کہتے ہیں تفقہ فی الدین اور قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ وہ جو نئے آنے والے ہیں ان کو بلاؤ تفقہ کرو ان کے لئے لیتَفَقَهُوا تا کہ وہ تم سے تفقہ سیکھیں۔ان کے دماغوں میں اس طرح یہ بات گھول گھول کر ڈال دو، اس طرح ان کو پلا دو یہ بات کہ واپس جا کر اپنی قوم کو ڈرانے کے مستحق ہو جائیں اور ڈرانے کی اہلیت حاصل کر لیں کیونکہ جاتے ہی ان کے سپر دنذیر کا کام کر دیا گیا ہے۔اب دیکھیں درمیان میں اور کوئی مضمون نہیں۔ليَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ صداقت کو اتنا واضح طور پر دیکھ لیں ایسا یقینی طور پر سمجھ لیں کہ پھر کوئی چیز ان کو صداقت سے ہٹا نہ سکے بلکہ اس مرتبے کو حاصل کر لیں جو استادوں کا مرتبہ ہے اور وہ جا کر اپنی قوم کو ڈرائیں اور بتائیں کہ ہم وہ جگہ وہ نور دیکھ آئے ہیں جس کے بغیر ہر طرف اندھیرا ہے اگر اسی حالت میں تم پڑے رہے تو تم اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے جانیں دے دو گے۔لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ تا کہ ان کی قوم خوف کرے کچھ خدا خوفی سے کام لے کچھ اپنے حال پر ڈرے اور اس طرح وہ ہدایت پا جائے۔تو دیکھیں تبلیغ اور تربیت کو خدا تعالیٰ نے کس طرح حکمت کے ساتھ ایسے رشتوں میں باندھ دیا ہے جو ٹوٹ نہیں سکتے۔بشارت انذار بن گئی ہے۔انذار بشارت ہوگئی ہے۔ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے ہیں۔پس آپ جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لاکھوں کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق بخشی ہے اب مزید انتظار کئے بغیر ان کی تربیت کا ایسا انتظام کریں کہ صرف ان کو نماز پڑھنا نہیں سکھانا، روزمرہ کے مسائل نہیں بتانے بلکہ تفقہ فی الدین یہاں بیان فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تفقہ کے ساتھ پھر باقی چیزیں از خود پیدا ہو جاتی ہیں، اگر تفقہ فی الدین ہو تو انسان کے اندر