خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 618
خطبات طاہر جلد 13 618 خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1994ء اور امت محمدیہ کو یہ خوش خبری دے رہے ہوا اپنی طرف سے کہ وہ ضرور آئے گا اور جب وہ آئے گا تو یہ سارے جھوٹے ادیان جو دعویدار بنے پھرتے ہیں یہ سب باطل ہو جائیں گے اور صفحہ ہستی سے مٹا دئے جائیں گے اور مسلمانوں کے سارے درد دور ہو جائیں گے، ساری مصیبتیں دور ہو جائیں گی اور سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور مسیح ہی سے ہماری آخری زمانے کی بقا ہے اور اس کے آنے کے نتیجے میں ہم دوبارہ زندگی کے سانس لینے لگیں گے۔یہ ہے کھلی کھلی تعلیم۔تو میں نے ان کو سمجھایا، میں نے کہا یہ بات سچی ہے نا تم جانتے ہو۔یہ تو میں تمہاری طرف کوئی جھوٹ منسوب نہیں کر رہا اور اگر سچی ہے تو اتنی اہم ہے کہ ضرورت ہے کہ سب دنیا کو بتاؤ یہ نئی تحریکات کیا چلا رہے ہو۔اس بگڑے ہوئے دور میں اگر وہ تریاق نہ آیا جس سے بیمار نے بچنا ہے تو تمہاری ساری کوششیں بے کار جائیں گی اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر یہ بیمار مر جائیں گے۔یہ حضرت محمد رسول اللہ کا پیغام ہے تمہارے نام۔میری بات نہیں مانتے اس پیغام کو تو عزت کی نگاہ سے دیکھو۔آنحضور فرمارہے ہیں کہ اس آخری زمانے کے مسلمانوں کی بیماریوں کا تریاق مسیح ہے۔وہ نازل ہوگا تو یہ بیماریاں دور ہوں گی ورنہ نہیں ہوں گی تو کیوں نہیں بتاتے کہ مودودی جھوٹے ہیں۔کیوں نہیں بتاتے کہ منہاج القرآن کی تحریکات اور ایک نام اور دوسرے نام کی تحریکات یہ ساری لغو باتیں ہیں بے معنی باتیں ہیں۔رابطہ عالم اسلامی کی کوششیں محض ڈالروں کو آگ لگانے والی بات ہے۔کچھ نہیں بنے گا ان سے جب تک مسیح نہیں الله اترے گا۔اگر یہ جھوٹ ہے نعوذ باللہ من ذلک اور تم یہ جھوٹ سمجھتے ہو تو محمد رسول اللہ ﷺ سے اپنا رشتہ تو ڑ لو کیوں کہ آپ نے فرمایا ہے۔نہ مسیح موعود نے نہ میں نے۔یہ محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آخری زمانے میں تمہارے بچنے کا دار ومسیح کے ہاتھ میں ہے اس کے سوا کہیں نہیں ہے۔اتنی اچھی طرح سمجھا کر بات بتا کر میں نے ان سے اپیل کی کہ اب آسمان سے اتارنا تو تمہارے بس میں نہیں ہے تم سے اڑھائی گز کی چھلانگ بھی نہیں ماری جاتی۔آسمان پر کہاں پہنچو گے اور یہ بھی نہیں پتا کہ وہ کس ستارے میں بیٹھا ہوا ہے اور ہر ستارہ اتنی دور ہے کہ اگر تم روشنی کے کندھوں پر بیٹھ کر ان ستاروں کی طرف سفر اختیار کر و تو لاکھ لاکھ سال تک سفر کرتے رہو تب بھی وہاں نہیں پہنچو گے کیونکہ زمین کے اکثر ستارے ہم سے ان سے بھی زیادہ دور ہیں۔تو کہیں تو ہے نا آخر اور تم کہتے ہو اور تم سچے ہو کہ مسیح کسی ستارے میں کہیں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے۔اب یہ نہیں پتا Dark Matter میں ہے یا Light Matter میں ہے۔