خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 619 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 619

خطبات طاہر جلد 13 619 خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1994ء کہاں ہے؟ تو اول تو پاکستان کے سائنس دانوں کو سعودی عرب کے سائنس دانوں کو اتنے بڑے مسئلے میں تحقیق کرنی چاہئے۔کیسی ظالمانہ بات ہے سچ مانتے ہیں اور ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے جھوٹی کہانی ہو۔یہ امر واقعہ ہے یہ کھول کھول کر میں نے بات اس لئے سمجھائی کہ ان کے دلوں کا جھوٹ خود ان کے سامنے کھل کر باہر آ جائے۔عقیدہ وہی ہے جو میں بتا چکا ہوں اور اس سے سلوک وہ ہے جیسے جنوں بھوتوں کی کہانیوں سے سلوک ہوتا ہے۔ہو تو تب کیا نہ ہو تب کیا، ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ تو صاف پتا چلتا ہے کہ ہر مولوی کا دل گواہ ہے کہ سب جھوٹی کہانی ہے جس میں ہم بیٹھے ہوئے ہیں یوں نہیں ہوگا اور اگر سچی ہے تو پھر فکر کیوں نہیں کرتے۔گنجے سر کے علاج کے لئے تو لوگ اتنا خرچ کر دیتے ہیں اور اتنا روپیہ برباد کیا جاتا ہے۔معمولی معمولی بیماریوں کی تحقیق پر اتنا روپیہ خرچ ہو جاتا ہے۔ساری امت مسلمہ کی روحانی بیماری کا مسئلہ ہے اسے ٹھیک کرنے کے لئے جو معالج مقرر ہے وہ دیر کر رہا ہے، نسلوں کے بعد نسلیں مررہی ہیں۔تم دوسرے تریاق ڈھونڈتے پھرتے ہو۔جانتے ہو کہ اصدق الصادقین نے فرمایا ہے کہ کوئی انسانی تریاق کام نہیں دے گا جب تک آسمان سے یہ اترنے والا نہیں اترے گا اس وقت تک یہ امت بچائی نہیں جاسکتی اور پھر فکر نہیں کرتے۔تو میں نے سمجھایا ، میں نے کہا دیکھو اور کچھ نہیں تو دعا کرو اور جب دعا کرو تو دجال کو نہ بھولنا کیونکہ مسیح سے پہلے دجال کا ذکر ہے۔تمہیں تو دجال ہی نظر نہیں آیا، تم نے مسیح کو کہاں سے دیکھ لینا تھا۔دجال کا ذکر ہے اور دجال کے متعلق فرمایا ہے کہ ایسا ہوگا، ایسا ہوگا اور اتنا لمبے قد کا، ایک آنکھ والا یعنی دائیں آنکھ اس کی کافی اور بائیں آنکھ روشن۔وہ لمبی تفصیلات ہیں جو میں بارہا آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں، کھول کر بیان کیں، علماء کو بتایا کہ دیکھو یہ دجال مسیح سے پہلے آنا ہے پھر مسیح آئے گا۔تو مسیح کی فکر ہے تو دجال کی فکر کرو پہلے۔اور دجال آئے گا تو اس نے سوار کس پر ہونا ہے گدھے پر سوار ہونا ہے اور ایسے گدھے پر جس کے دوکانوں کے درمیان ستر ہاتھ کا فاصلہ ہے۔جس کا قد اتنا اونچا ہے کہ وہ Cloud Line جس کو کہتے ہیں اس سے بھی وہ اوپر ہے اور اس کی رفتار ایسی ہے کہ وہ ہوائی جہازوں کو مات کرتا ہے۔رسول اللہ ﷺ کے الفاظ ہیں مشرق سے قدم اٹھائے گا وہ گدھا۔ایک پاؤں مشرق میں تو دوسرا مغرب میں Land کرے گا۔جس طرح ہوائی جہاز چلتے ہیں روزانہ مشرق سے اٹھتے ہیں اور مغرب میں لینڈ کر رہے ہوتے ہیں وہی نقشہ ہے۔مگر جس کو دکھائی نہ دے