خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 617
خطبات طاہر جلد 13 617 خطبہ جمعہ فرموده 19 اگست 1994ء ہیں۔اصل میں جماعت احمدیہ سے بھاگ رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے لئے چارہ ہی کوئی نہیں، بیچاروں کے لئے اتنا خوف ہے کہ یہ اگر مان لی رسول اللہ ﷺ کی بات تو جماعت کو ماننا پڑے گا مسیح موعود کی صداقت ماننا پڑے گی۔اس لئے رسول اللہ ﷺ کو بھی چھوڑ جاتے ہیں۔اس حد تک ان کے دلوں میں بغض بڑھ چکے ہیں اور اصل خوف کی وجہ یہی ہے ورنہ وفات مسیح کے عقیدہ سے بذات خود نفرت نہیں رکھتے تھے یہ لوگ۔اب صورت حال یہ ہے کہ جوں جوں وقت گزررہا ہے اس عقیدے کو دوبارہ کھول کر پیش کر کے اس کی حکمتیں بیان کرنا ضروری ہے اور تفقہ اس سلسلے میں یہ ہوگا کہ ہر آنے والے کو سمجھایا جائے کہ تم نے کیا عقیدہ چھوڑا ہے کیا قبول کیا ہے، باقی مسلمان یہ مانتے ہیں اور تم یہ ماننے لگے ہو۔ان کے وہ ماننے کے بدنتائج کیا ہیں اور تمہارے یہ ماننے کے اچھے نتائج کیا ہیں اور اگر اس بات کو قوم نہیں سمجھے گی تو ہلاک ہو جائے گی کیونکہ جو بچانے والا تھا وہ تو آ بھی چکا اور اگر اس حال میں گزر گیا کہ تمہاری زندگیاں ختم ہوئیں اور تم نے اس کو نہ پہچانا تو تمہاری ہلاکت یقینی ہے اور لفظ ہلاکت خواہ کیسا ہی تکلیف دہ دکھائی دے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہی لفظ استعمال فرمایا ہے۔كَيْفَ تَهْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ کس طرح ہلاک ہوگی یہ امت اَنَا اَوَّلُهَا وَالْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ آخِرُهَا اول پہ میں کھڑا ہوں اور آخر پہ مسیح آنے والا ہے یہ کیسے ہلاک ہوسکتی ہے اور اگر نہ آیا آخر پر تو ہلاک ہو جائے گی اور آیا اور نہ پہچانا گیا تب بھی ہلاک ہو جائے گی۔تو زندگی اور موت تو بظا ہر عیسی کی ہے مگر حقیقت میں امت مسلمہ کے آخری دور کی زندگی اور موت کی بحث چل رہی ہے۔انہیں یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ہوش کے ناخن لو عقل سے کام لوسیح کی اہمیت کو پہلے سمجھو اگر تم اس عقیدے پر قائم رہے کہ مسیح وفات نہیں پاچکے زندہ آسمان پر بیٹھے ہوئے ہیں تو پھر تمہارے لئے لازم ہے کہ دعائیں کرو کہ جلد خدا ان کو آسمان سے اتارے اور اس کی اہمیت لوگوں کے سامنے بیان کرو۔علماء کو جب میں نے چند سال پہلے یہ کہا تو ایک مولوی نے بھی یہ اعلان نہیں کیا۔اس طرح یہ بھاگتے ہیں مباہلوں سے بھی بھاگتے ہیں، حقیقی سچے استدلال سے بھی بھاگتے ہیں۔میں نے کھلے عام مولویوں کو جلسے پر دعوت دی تھی کہ دیکھو تم سارے اصرار کر رہے ہو اور کتا بیں لکھ رہے ہو کہ مسیح فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ جسم سمیت آسمان پر چڑھایا گیا۔وہاں اپنے دوبارہ اترنے کا انتظار کر رہا ہے۔