خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 616
خطبات طاہر جلد 13 616 خطبه جمعه فرمود و 19 راگست 1994ء کے نتیجے میں جو چلے آئیں گے وہ بچائے جائیں گے۔جو بشارت کے دور میں بھی ہوائیں چلنے کے باوجو در کیں گے ان کی سزا کا وقت آ گیا ہے۔پس یہی لوگ جنہوں نے بشارت کے نتیجے میں حق کو قبول کیا ان کی ایسی تربیت کرو، ان کے دلوں میں ایسے ولولے بھر دو کہ بے چین ہو ہو کر واپس لوٹیں کہ ہم جا کر اپنی قوم کو بھی یہ خبر دیں اور یہ بات ایسی بچی ہے کہ بارہا میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اس کو پورا ہوتے دیکھا ہے۔ربوہ کے جلسوں کے دوران بھی اور اب بھی بسا اوقات ایسے آدمی جو بہت دور سے سفر کر کے پہلی دفعہ جلسوں میں شرکت کے لئے آئے جب ان سے میں نے تاثر پوچھا تو بالکل اس آیت کے مصداق تاثر تھا۔ایک نے کہا کہ اب تو میرا دل چاہتا ہے کہ جلدی واپس جاؤں۔میں نے کہا کیوں اتنی جلدی کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہماری قوم جو محروم بیٹھی ہے میں جا کر بتاؤں تو سہی کہ کیا دیکھ کے آیا ہوں اور کن چیزوں سے وہ محروم ہے۔پس لِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ میں یہ مفہوم ہے جو بار بار ہم اپنی آنکھوں کے سامنے حقیقہ پورا ہوتے بھی دیکھتے ہیں۔پس تمام دنیا میں تمام جماعتیں ایسے مستقل مراکز قائم کر دیں جہاں نئے آنے والوں کے کچھ کچھ نمائندہ سارا سال تربیت پاتے رہیں۔لمبے تربیتی پروگرام نہیں بنانے۔سردست چھوٹے چھوٹے بنانے ہیں مگر ایسے بنانے ہیں کہ تفقہ کا حق ادا ہو جائے۔مثلاً موٹے مسائل میں سے ایک وفات مسیح کا مسئلہ ہے اس مسئلے کو اگر سمجھا دیا جائے تو اس کی اہمیت بھی خوب ابھر کر روشن ہو کر آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔لوگ کہتے ہیں وفات مسیح سے کیا فرق پڑتا ہے مرے عیسی زندہ رہے اب تو یہ کہنے لگ گئے ہیں کہ کہتے ہیں ٹھیک ہے مر گیا تو مر گیا زندہ ہے تو زندہ ہے ہمیں کیا۔کہ تمہیں کیوں نہیں۔تمہاری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے عیسی کی زندگی اور موت کا نہیں امت محمدیہ کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے بارہا کھول کھول کر یہ بات واضح فرمائی کہ وہ امت ہلاک نہیں ہو سکتی جس کے آخر پر مسیح ابن مریم ہو گا۔ایک موقع پر فرمایا جس کے اول میں میں ہوں اور آخر پر مسیح ابن مریم اور ان لفظوں میں نہیں مگر اس مفہوم کو بار بار اس شدت اور اس زور کے ساتھ بیان فرمایا کہ سوائے اس کے کہ کسی کا نفس مجرم ہو چکا ہو اور کہے میں نے نہیں ماننا۔حضرت عیسی کے آنے کے عقیدے سے کوئی شخص بھی جو حقیقہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کا احترام اپنے دل میں رکھتا ہے انکار نہیں کر سکتا، ناممکن ہے۔جو بھاگتے ہیں بظاہر رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی ماننے سے انکار کر رہے