خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 615
خطبات طاہر جلد 13 615 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 /اگست 1994ء کہتے ہیں کہ پہلے تو اس طرح کھل کر لوگ نہیں کہا کرتے تھے مگر اب ایک ایسا دور آ گیا ہے کہ جب عام مجالس میں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ مولوی جھوٹا ہے اور احمدی نیچے ہیں۔ایک ایسے غیر احمدی نے جو اونچے طبقے میں پھرنے والے ہیں انہوں نے بیان کیا اپنے ایک عزیز دوست سے جس نے مجھے یہ روایت پہنچائی۔اس نے کہا کسی جگہ بات ہورہی تھی تو ایک صاحب جو کافی با رسوخ تھے وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا سچی بات یہ ہے کہ اگر مسلمان ہے تو احمدی ہے باقی سب جھوٹ ہے۔محض ڈھکوسلے ہیں، مولویوں نے فساد بنائے ہوئے ہیں اسلام کہیں نہیں ہے ان کے پاس۔اگر اسلام ہے تو احمدیت میں ہے تو وہ دور آ چکا ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کے مطابق آراء نے تبدیل ہونا تھا اور آسمان سے آراء تبدیل کرنے کی ہوائیں چل چکی ہیں۔پس یہ وہ دور ہے کہ ان شریروں کو جو باز نہیں آ رہے بتایا جائے کہ اب اگر تم اس حرکت سے باز نہیں آؤ گے تو تمہارے لئے ہلاکت ہے اور یہ انذار کرنے والے پرانوں ہی میں سے نہیں نیوں میں سے پیدا ہوں۔یہ جو دور ہے یہ ایک لحاظ سے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آج کے حالات پر صادق آہی رہا ہے مگر قرآن کریم کی جو آیت میں نے پڑھی ہے اس کا مضمون زیادہ وسیع ہے۔قرآن کریم یہ بتا رہا ہے کہ ایسے دور آتے ہیں جب کہ کثرت سے لوگ حق کو قبول کرنے لگ جاتے ہیں اور جب وہ کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں خطرات پیدا ہوتے ہیں ان خطرات میں سے سب سے پہلے یہ خطرہ ہے کہ ان لوگوں کو حق قبول کرنے کے بعد کوئی بہکانے کی کوشش نہ کرے اور یہ جو سلسلہ چل پڑا ہے اس کا رخ نہ بدل جائے۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ اس عظیم دور کا رخ ہمیشہ ترقیات کی سمت جاری رہے تو قرآن کریم فرما رہا ہے کہ ضروری ہے کہ ان سب نئے آنے والوں کو ایسے مراکز میں بلا ؤ جہاں دین کی تربیت دی جا رہی ہو۔تفقہ فی الدین ہواور اس حد تک ان کو دین کے مسائل سے آگاہ کرو، اس کی حکمتوں سے آگاہ کر دو کہ ان کے دل میں ایک ولولہ پیدا ہو جائے وہ محض مصنوعی طور پر ایک طالبعلم کے طور پر نہ بیٹھے رہیں، ان کے دل میں یہ جوش اٹھے کہ اب تو ہمیں استاد بننا چاہئے کہ جلدی واپس جائیں اور اپنی قوم کو ڈرائیں کہ وقت آگیا ہے۔جب قبولیت کی ہوا چلتی ہے تو انکار کرنے والوں کی پکڑ کے دن بھی آیا کرتے ہیں یہ بھی بَشِيرًا وَنَذِيرًا کا ایک مضمون ہے جس کو تاریخ ثابت کرتی ہے۔پس یہ دور ہے جس میں ہم داخل ہوئے ہیں۔بشارت