خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 56
خطبات طاہر جلد 13 99 56 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1994ء پیدا ہوئے تھے۔اور یکم مئی 1938ء کو یہ مجاہدین تحریک جدید کے ساتھ وابستہ ہوئے۔1946ء میں پہلی مرتبہ اعلائے کلمہ اسلام کے لئے سنگا پور بھجوائے گئے۔پھر چار سال وہاں خدمت بجالانے کے بعد انڈونیشیا میں متعین ہوئے۔1974ء سے 1980 ء تک کراچی واہ کینٹ اور ربوہ میں خدمات سرانجام دیں۔پھر دوبارہ 1980ء سے 87 ء تک انڈونیشیا میں جہاد تبلیغ میں مصروف رہے۔واپسی کے بعد زندگی کی آخری سانس تک تحریک جدید کے مفوضہ فرائض سرانجام دیتے رہے۔19 جنوری 1994 ءکولا ہور میں وفات پائی۔سید بر مسعود مبارک شاہ صاحب جو میرے ماموں زاد بھائی سید محمود اللہ شاہ صاحب کے صاحبزادے اور ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے۔ان کی جو والدہ کی طرف سے بھی ان کو یہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل نصیب ہوا۔یہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کے نواسے تھے۔میرے ماموں کی ایک شادی حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کی صاحبزادی سے ہوئی تھی تو میرے بہنوئی سید داؤ د مظفر صاحب بھی انہی کے بطن سے ہیں۔وقف زندگی کے بعد ایک بہت لمبے عرصے تک آپ نے جماعت کی اسٹیٹ تک یعنی سندھ کی جو زمینیں تھیں ان پر خدمات سرانجام دیں۔لائل پورا یگریکلچر کالج سے باغوں کے فن پر انہوں نے ایک ڈپلومہ لیا تھا حضرت مصلح موعودؓ کے کہنے پر چنانچہ وہاں جو بڑے بڑے باغ لگائے گئے ہیں۔ان میں ان کی محنت اور ان کی صلاحیت کا بھی کافی دخل ہے۔ان کی شادی میرے دوسرے ماموں عبدالرافع صاحب کی بیٹی سے ہوئی تھی۔اور پندرہ سال ان کو لنڈن کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کثرت سے طوبیٰ شاہ انہی کے صاحبزادے تھے اور اسی طرح عقیقہ ڈاکٹر فرید کی بیگم وہ بھی سید مسعود مبارک شاہ صاحب کی صاحبزادیاں ہیں۔یہ دونوں آج انشاء اللہ جنازے میں شرکت کرنے کے لئے تشریف لے جائیں گے۔ان کو بھی اپنی خاص دعاؤں میں یا درکھیں۔دونوں نام وہ ہیں جن کی نماز جنازہ جمعہ کے بعد اور پھر عصر کی نماز کے بعد دونوں نمازوں کے بعد ادا کی جائے گی۔کیوں کہ ابھی تک وقت ، دن اتنا چھوٹا ہے کہ جمعے کے ساتھ ہی عصر کا وقت شروع ہو رہا ہے۔امام صاحب ٹھیک ہے! جب ایسا وقت کہ دونوں کو الگ الگ پڑھا جائے تو انشاء اللہ اعلان کر دیا جائے گا۔اس کے علاوہ اس سلسلے کے بہت ہی مخلص کارکن سید سخاوت علی شاہ صاحب یا سید خاور شاہ صاحب جو اصلاح وارشاد کراچی کے ایڈیشنل سیکریڑی تھے