خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 613
خطبات طاہر جلد 13 613 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 /اگست 1994ء ایک دفعہ پہلے بھی جماعت کو متوجہ کر چکا ہوں کہ ہمارے ہاں تبشیر کہتے کہتے انذار کا تصور دماغ سے نکل ہی گیا ہے حالانکہ قرآن کریم ہر جگہ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا، بَشِيرًا وَنَذِيرًا کہتا جاتا ہے اور مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا بیان فرماتا ہے اور دونوں کو اس طرح اکٹھا کرتا ہے جس طرح مکے مدینے، مکے مدینے لوگ کہتے ہیں ان کو یہ بھی نہیں پتا کہ دونوں کا فاصلہ کتنا ہے لیکن ہمارے ملکوں میں لفظ مکے کے ساتھ مدینہ خود بخود سے نکل جاتا ہے۔تو بشیر اور نذیر کو اس طرح جوڑ جوڑ کر بیان فرمایا ہے کہ اس میں تو فاصلہ بھی کوئی نہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ بشیر وہی ہے جو نذیر بھی ہو اور یہ دونوں اس طرح ایک دوسرے کے سامنے پول بنے ہوئے ہیں ایک دوسرے کے سامنے قوتوں کے مرکز بنے ہوئے ہیں کہ ایک کو ہٹاؤ تو دوسرا ہٹ جائے گا۔کوئی ماں تربیت نہیں کر سکتی اپنے بچے کی اگر وہ مبشرہ ہی ہو اور نذیرہ نہ بنے۔کوئی باپ اپنے بچے کی تربیت نہیں کر سکتا اگر وہ نذیر ہی بنا رہے اور مبشر نہ ہو تو اس طرف دھیان چاہئے۔خدا تعالیٰ نے یونہی تو نہیں بے وجہ بار بار بشیر نذیر، بشیر نذیر کہہ کہہ کر سارے قرآن میں ان دو تصورات کو ایسا باندھ دیا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتا۔شاذ کے طور پر بعض ایسے محل پہ جہاں تبشیر کے مضمون کا ذکر اقتضائے حال کے مطابق نہیں تھا جہاں نذیر کا لفظ ضروری تھا وہاں نذیر کو اکیلا بیان فرمایا گیا ہے بعض دوسرے مواقع پر جہاں وقت کا تقاضا تھا کہ وہاں صرف بشارت کا مضمون بیان ہو وہاں بشیر کا ذکر فرمایا گیا۔لیکن بالعموم بشیر اور نذیر دونوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ایسے رشتے میں باندھا گیا ہے کہ وہ ٹوٹ نہیں سکتا ایک تصور کے ساتھ دوسرا از خودا بھر آتا ہے۔تو میں جماعت کو پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں کہ آپ بشیر ہی بنے رہیں گے یا نذیر بھی بنیں گے ساتھ اور بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جب نذیر کا دور چلتا ہے اور بشیر سے بڑھ کر نذیر بنا پڑتا ہے ورنہ قوم بیچ نہیں سکتی۔اسی لئے جلسہ سالانہ میں میں نے کہا گیارھواں سال ہونے کو آیا بشیر بنتے بنتے اب کچھ نذیر بھی تو بنو۔کچھ ان کو بتاؤ کہ ہماری دعائیں کیا اثر رکھتی ہیں اور تمہیں ہلاکت سے جن چیزوں نے بچا رکھا تھا ان میں ہماری دعائیں بھی شامل تھیں۔اگر یہ پردہ اٹھا تو تم میں جو بد بخت ہیں وہ ضرور سزا پائیں گے اور بدنصیبی ہوگی کہ ان کے ساتھ قوم بھی ڈوب جائے۔پس قوم کو بچانے کے لئے یہ تبشیر کا ایک خاص پہلو ہے کہ اس کو بچانے کے لئے ڈرایا جاتا ہے اور جب وہ ڈر جاتے ہیں تو پھر اس خوف میں سے بشارت نکلتی ہے۔آپ کسی کو بتا ئیں کہ اس