خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 612
خطبات طاہر جلد 13 612 خطبه جمعه فرموده 19 راگست 1994ء سمجھیں گے، دین میں ان کو استحکام نصیب ہوگا اور پھر بہترین داعی الی اللہ بننے کے لئے واپس لوٹیں گے یا داعی الی اللہ بن کر واپس لوٹیں گے تو تربیت اور تبلیغ کو الگ الگ، ایک دوسرے سے جدا دو مضامین کے طور پر پیش نہیں فرمایا بلکہ دونوں کو ایک دوسرے میں مدغم کر دیا ہے۔تربیت کرنے والوں کو سمجھایا کہ انہوں نے قبول تو کر لیا مگر ہو سکتا ہے دین ان میں پوری طرح جذب نہ ہوا ہو یا وہ دین میں پوری طرح ڈوبے نہ ہوں۔پس تفقہ کا ذکر فرمایا لیعَلِّمُو نہیں فرمایا کہ سکھائیں ان کو وَلِيَتَعَلَّمُو نہیں فرمایا کہ وہ سیکھیں بلکہ یتفقھو کا مطلب ہے وہ دین کی حقیقت کو سمجھ جائیں اس غرض سے اکٹھے ہوں اس کی حکمتوں کو جان لیں، اس کے مسائل کو اچھی طرح سمجھ لیں۔اس کے بعد پھر ان کے متعلق شیطان کے لئے ممکن نہیں رہے گا کہ وہ ان کو پھسلا سکے۔پس حقیقت میں جو نہم اور ادراک کا استحکام ہے اس سے بڑا کوئی استحکام نہیں۔عروہ وشقی پر ہاتھ ڈالنا کہ پھر وہ بھی اس سے جدا نہ ہو سکے یہ رشد و ہدایت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ایسی واضح رشد و ہدایت کہ کھرے کھوٹے میں پوری طرح تمیز ہو چکی ہو اس کے بعد ایسے شخص کو کوئی پھسلا سکتا ہی نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ کوششیں ہوں گی جیسا کہ ہورہی ہیں کہ بے حد روپیہ دے کر لالچیں دے کر ان لوگوں کو اپنی طرف کھینچا جائے۔کوششیں ہوں گی اور ہو رہی ہیں کہ جماعت احمدیہ کے متعلق یک طرفہ غلط فہمیاں پھیلائی جائیں مگر وہ لوگ جو دینی مراکز میں جا کر تفقہ حاصل کر چکے ہوں وہ شیطان کی حد استطاعت سے باہر چلے جاتے ہیں۔شیطان کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ انہیں پھسلا سکے کیونکہ وہ اس حد تک سیکھ چکے ہیں کہ جب واپس جاتے ہیں وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُم وہ تو اب منذر بن کے، نذیر بن کے واپس جارہے ہیں تو وہ تو لوگوں کو ڈرانے کی صلاحیت حاصل کر کے واپس جارہے ہیں ان کو کوئی کس چیز سے ڈرا سکتا ہے۔پس تفقہ سے مراد ایسا تفقہ ہے کہ دین میں اتنا گہرا استحکام ہو جائے اور مسائل اس طرح دلوں میں اتر چکے ہوں کہ اس کے بعد ان کے دلوں میں ولولہ پیدا ہو کہ کاش ہم واپس جائیں اور اپنی قوم کو بتائیں کہ ہم کیا دیکھ آئے ہیں اور تم کن باتوں سے محروم ہو اور اگر اسی طرح تم اسی حالت میں زندگی بسر کرتے رہے تو تمہارے لئے ہلاکت یقینی ہے، یہ انداز ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ یہاں تبشیر کا کوئی ذکر نہیں ہے حالانکہ تبلیغ کے لئے زیادہ تر تبشیر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔اس ضمن میں میں