خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 611 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 611

خطبات طاہر جلد 13 611 خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1994ء ساتھ آگاہ کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ آنے والا استاد بننے کے اہل ہو جاتا ہے۔یہ استاد کا مفہوم اس میں داخل ہے کیونکہ مقصد ہی استاد تیار کرنا بیان فرمایا گیا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ طالبعلم آئیں اور سیکھ کے چلے جائیں اپنے ذاتی فائدے کے لئے مختلف علمی مراکز میں پہنچیں۔فرمایا کہ اس لئے آئیں کہ واپس جائیں تو اپنی قوم کے معلم بن جائیں اور ان کو دین سکھائیں اور اس ہلاکت سے ڈرائیں جس میں وہ مبتلا ہیں لیکن انہیں ابھی علم نہیں کہ وہ ہلاکت میں مبتلا ہوچکے ہیں لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ شاید کہ وہ بچ جائیں۔اگر ان کو اچھی طرح سمجھایا جائے کہ بات کیا ہے تو ان کے لئے امکان پیدا ہو گا کہ وہ بیچ جائیں۔یہ وہ دور ہے جبکہ کثرت کے ساتھ لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے اور یہ ممکن نہیں تھا کہ مرکزی معلمین ہر جگہ پہنچ کر ان کی تربیت کر سکتے ، ان کو دین سکھا سکتے اور مسائل سمجھا سکتے۔ایسی صورت حال کا حل یہ پیش فرمایا گیا ہے اور آج جماعت احمد یہ بعینہ اس دور میں سے گزر رہی ہے۔اس کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انعامات کے پھلوں کی بارش ہو رہی ہے کہ انہیں سنبھالنا ایک بہت بڑا کام ہے اور وہ پھل جو سنبھالا نہ جائے وہ ضائع ہو جایا کرتا ہے۔پس اب یہ فکر کا دور ہے اور اس فکر کا حل قرآن کریم نے چودہ سو برس پہلے سے ہمیں بتا رکھا ہے۔تمام دنیا میں جہاں جہاں کثرت سے لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں وہاں ان ملکوں میں مرکزی دینی تربیت گاہیں قائم کرنا ضروری ہے جو تمام سال کام کرتی رہیں۔گزشتہ سال میں نے نصیحت کی تھی کہ پہلے تین مہینے آنے والوں کی تربیت کے لئے وقف کریں لیکن جب میں نے قرآن کریم کے اس مضمون پر دوبارہ غور کیا تو مجھے یہ سمجھ آئی کہ یہاں دو تین مہینے کی بات نہیں بلکہ ایک دائمی جاری وساری نظام کا ذکر ہے جو ایک دفعہ جاری ہوگا تو رکے گا نہیں اور ہمیشہ جاری رہے گا۔پس تربیتی کلاسز جن کا انعقاد ہوتا ہے اور جو لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی چلے ان کو میں سمجھا رہا ہوں کہ ہر ملک میں ایک دائمی جاری رہنے والی تربیتی کلاس کا انتظام کرنے کی قرآن نے ضرورت بیان فرمائی ہے اور قرآن جب ضرورت بیان فرماتا ہے تو وہ لا ز ما ضرورت حقہ ہوتی ہے وہ ایسی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے نظر انداز کیا جائے تو یقیناً شدید نقصان پہنچتا ہے۔پس اب تربیت اور تبلیغ کے کام الگ الگ نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ مدغم ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کی اسی آیت نے اس مضمون کو بھی کھول کر بیان فرما دیا وہ تربیت حاصل کریں گے دین کو اچھی طرح