خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 603
خطبات طاہر جلد 13 603 خطبہ جمعہ فرمودہ 12 /اگست 1994ء نے ان کے اموال میں اتنی برکت دی کہ بہت تھوڑے میں غیر معمولی برکتیں پڑیں اور جو کچھ انہوں نے حاصل کیا انسان کو یقین نہیں آسکتا کہ اتنے تھوڑے مال میں اتنی بڑی برکتیں پڑسکتی ہیں اور پھر ان کو بھی زیادہ دیا گیا، ان کی اولادوں کو بھی زیادہ دیا گیا، دولتوں کے دروازے ان پر کھول دیئے گئے اور واقعہ یہ تھا کہ ان کے آباؤ اجداد میں سے کوئی قانع تھا اور پوری طرح قناعت کے مضمون کو سمجھتے ہوئے خدا کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے قانع رہا اور نتیجہ یہ نکلا کہ خدا نے شکر کے بدلے دینے شروع کئے جو ختم ہی نہیں ہوتے۔تو آنحضور ﷺ کی چھوٹی چھوٹی نصیحتوں میں بعض دفعہ بوجھل باتیں بھی دکھائی دیتی ہیں کہ قانع بنا بڑا مشکل کام ہے، کیسے قانع بنیں؟ لیکن اگر آنکھیں کھول کر ان کو پڑھیں ، گہرائی میں اتر کر ان کا مطالعہ کریں تو ان بوجھوں کو ہلکا کرنے والے مضامین اسی کے اندر موجود ہوتے ہیں۔پس لفظ شکر نے قناعت کے سارے بوجھ دور کر دیئے کیونکہ شکر کے ساتھ أَزِيدَنَّكُمْ کا وعدہ موجود ہے۔پھر فرمایا وَاحِبْ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنُ مُؤْمِنًا اب مومن کی یہ تعریف فرما دی که وَاحِبْ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنُ مُؤْمِنًا لوگوں کے لئے وہ بات پسند کرو جو تم اپنے نفس کے لئے پسند کرتے ہو۔اب یہاں مسلم کا لفظ نہیں آیا۔عام طور پر مسلم کی تعریف میں مسلمانوں کے تعلقات کا ذکر ملتا ہے اس سے بعض غیروں کو یہ غلط طور پر مسلم کی تعریف میں مسلمانوں کے تعلقات کا ذکر ملتا ہے اس سے بعض غیروں کو یہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کے احسانات محض مسلمانی کے دائرے میں ہیں وہ اس مضمون کو سمجھ نہیں سکتے لیکن آنحضرت ﷺ نے لفظ مسلم کو غیر مسلموں پر احسان کے معنوں میں بھی استعمال فرمایا ہے۔لیکن لفظ مومن کو خصوصیت کے ساتھ تمام بنی نوع انسان کے ساتھ احسان کے معاملے کے تعلق میں بیان فرمایا ہے۔یہ وہ ایک موقع ہے جو اس کی مثال ہے۔آنحضور فرماتے ہیں کہ احِب النَّاسِ لوگوں کے لئے وہی چیز چاہو۔مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ جو تم اپنے نفس کے لئے چاہتے ہو تَكُنُ مُؤمِنًا تو تم مومن ہو جاؤ گے۔یعنی خدا کے حضور مومن لکھے جاؤ گے اب اس کا کیا تعلق ہوا۔مومن لکھے جانے کا اس بات سے کیا تعلق ہے۔جب تک اس کو سمجھیں گے نہیں ، نہ اس حدیث پر صحیح عمل ہوسکتا ہے نہ اس سے پورا استفادہ ہو سکتا ہے۔