خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 602
خطبات طاہر جلد 13 602 خطبہ جمعہ فرمود و 12 اگست 1994 ء تھا۔ہزار نفس کے بہانے ہیں جو اگر انسان اپنے دل میں غور کرے تو جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں اور وہ بندوں کا بھی شکر گزار نہیں بنتا اور ایک اور حدیث کا مضمون اس پر صادق آتا ہے کہ مَنُ لَم يَشْكُرِ النَّاسِ لَمْ يَشْكُرِ الله ( ترندی کتاب البر والصله حدیث : 1877) کہ جو بندوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔فرق صرف یہ ہے کہ اس حدیث میں رخ دوسرا بنتا ہے کہ جو اللہ کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ بندوں کا بھی نہیں ہوتا۔پس قناعت سے باہر نکلنا ناشکری کو دعوت دینا ہے یا ناشکری کے ابتلاؤں میں پڑنے والی بات ہے۔اللہ کسی اعلیٰ خلق والے انسان کو تو فیق عطا فرمائے کہ وہ ناشکری میں مبتلا نہ ہو اور جائز ضرورت کے قرض عدم قناعت کی وجہ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق جدوجہد کی خاطر لے تو پھر یہ جائز ہے لیکن قناعت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے قرضے نہ لے اگر وہ ڈوبے تو ان کو پھر کسی صورت ادا نہ کر سکے۔یہ قناعت کا دوسرا پہلو ہے جسے آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر ایک شخص کے پاس اتنی سی جائیداد ہے کہ وہ ساری بھی بیچ دے تو قرض خواہ کا قرضہ ادا نہ کر سکے اس سے باہر جب وہ قرض کی چھلانگ لگاتا ہے تو قناعت سے باہر نکل گیا۔اس کو پتا ہے کہ میں اسے ادا کرنے کی توفیق ہی نہیں رکھتا اور اسے علم ہے کہ دنیا کی تجارتوں میں ایسے خطرے ہوتے ہیں کہ جو کچھ سرمایہ ہے سب ڈوب جائے۔پس قناعت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر قرض لوکسی سے کچھ مانگو اس یقین دہانی کے ساتھ کہ تم اسے واپس کرو گے یا شکریہ کے ساتھ جو تمہارے پاس منافع آئے اس میں بھی حصہ دو گے تو ایسی صورت میں اپنی قناعت کے دائرے سے باہر قدم رکھنا جائز نہیں ہے۔اور قناعت کے دائرے بڑھتے ہیں جو شخص قانع ہو اس کے متعلق فرمایا وہ شکر گزار ہے۔اب اس کا دوسرا پہلو بھی تو ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میراشکر ادا کرو گے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا۔لَا زِيدَنَّكُمْ (ابراہیم: 8) کا وعدہ ہے پھر ایک اور گر ہمارے ہاتھ آیا کہ قناعت کا یہ مطلب نہیں کہ منہ بسور کر کسی محدود دائرے میں بیٹھے رہو اور ساری عمر وہیں قید رہو۔قناعت کو شکر سے باندھ کر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے لامتناہی احسانات کے دروازے کھول دئے ہیں۔اتنا عظیم الشان مضمون ہے کہ اس میں ڈوب کر انسان زندگی کے فلسفے کو پالیتا ہے۔اب اس بات کو اچھی طرح سمجھ کر اگر آپ ان لوگوں کے حالات پر نظر ڈالیں جو قانع تھے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ پھر خدا