خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 601 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 601

خطبات طاہر جلد 13 601 خطبه جمعه فرموده 12 اگست 1994ء ساری زندگی عبادت بن جاتی ہے۔پس جس کی ساری زندگی عبادت بن چکی ہو اس سے زیادہ عبادت کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے۔پھر فرمایا كُنْ قَنِعًا تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ که قانع ہو جا، قناعت اختیار کر۔تمام شکر گزار بندوں سے زیادہ شکر گزار تو ہو جائے گا۔اب قناعت کیا چیز ہے اس سلسلے میں میں ایک دفعہ تفصیلی روشنی ایک دو خطبات میں ڈال چکا ہوں یاد دہانی کے طور پر مختصرا یہ بتاتا ہوں کہ قناعت کہتے ہیں جو کچھ خدا نے دیا ہے خواہ وہ بہت تھوڑا ہی ہو اپنے پاؤں اس چادر کے اندر سمیٹ لیں اور اس سے باہر پاؤں نکالنے کا تصور بھی نہ کریں۔ایسا شخص جو ہے وہ کبھی قرض دار نہیں بن سکتا۔ایسا شخص اپنی تمناؤں کو سمیٹتا ہے۔اپنی ضرورتوں کو سکیڑتا ہے یہاں تک کہ وہ اس چادر کے اندر سما جاتا ہے جو خدا نے اس کو رزق کی چادر عطا فرمائی ہے اور ایسا شخص پھر شکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا کہ میری تمام ضرورتیں پوری ہیں۔میں ٹھیک ہوں تیرے حضور اور یہی شکر ہے۔ان معنوں میں بھی جو قناعت اختیار نہیں کرتا اور خدا کے دئے ہوئے سے آگے بڑھ کر نا جائز طور پر یا اپنے نفس کو یہ یقین دلا کر کہ سب کچھ جائز ہے لوگوں کے اموال پر نظر رکھتا ہے لوگوں سے مانگتا ہے ان کے آگے جھکتا ہے کبھی قرض کے نام پر کبھی ویسے بھکاری بن کر، وہ خدا کا شکر گزار نہیں ہوسکتا اس کی تو ساری ضرورتیں پھر بندوں کی محتاج ہو جاتی ہیں اور اسے شکر کیسے نصیب ہوگا۔ہر وقت اس کا دل کفر میں مبتلا رہتا ہے کہ اچھا خدا نے تو ضرورت پوری نہیں کی ہم نے فلاں سے قرض لے کر پوری کر لی۔فلاں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر پوری کر لی ، فلاں کے آگے اپنے رونے رو کر پوری کر لی۔پس وہ اپنے دکھڑے ہر ایک کے سامنے بیان کرتے رہتے ہیں اور روتے رہتے ہیں اور ساری زندگی ان کی اسی طرح گزر جاتی ہے۔قرض لیتے ہیں تو واپس نہیں کرتے ، تجارت کرتے ہیں تو دھوکا کر جاتے ہیں۔ایسا شخص حقیقت میں ان کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا جن سے یہ ظلم کر رہا ہوتا ہے اور کبھی ایسے لوگ ان کا شکر ادا کرنے کی نفسیاتی صلاحیت نہیں رکھتے کیونکہ جوشخص کسی سے دھوکا کرتا ہے وہ اس کے خلاف کوئی عذر بھی بناتا ہے اور عموماً اس کے خلاف شکوے شروع ہو جاتے ہیں کہ اس نے تو مجھ سے یہ کیا تھا، اس نے تو مجھ سے یہ معاہدہ کیا تھا، اس نے تو مجھ پر ظلم کر دیا، مجھے نوکری دے دی حالانکہ مجھے دوسری جگہ بہت اچھی نوکری مل رہی تھی اور میں اس کی خاطر آیا