خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 600 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 600

خطبات طاہر جلد 13 600 خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اگست 1994ء قبول کرنے کا رنگ ہے ۔ تو جہاں آپ دعوتیں لفظاً لفظاً قبول نہیں کر سکتے وہاں کم سے کم کلمہ خیر کے ذریعے اپنی اس کمزوری کا ازالہ کریں اور اس کو یقین دلا دیں دعوت کرنے والے کو کہ تمہاری دعوت کی میرے دل میں گہری قدر ہے، میں ممنون احسان ہوں گویا میں نے دعوت قبول کر لی ہے لیکن میری مجبوریاں حائل ہیں ۔ پھر فرمایا کہ جو شخص تم پر نیک سلوک کرتا ہے اس کے اس نیک سلوک کا بدلہ کسی نہ کسی رنگ میں ضرور دو ۔ اگر بدلہ دینے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو کم سے کم دعائے خیر ہی کرو۔ یہ وہی بات ہے جو میں پچھلی حدیث کے حوالے سے بیان کر چکا ہوں اور اس میں پھر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ دعا اتنی کرو کہ تمہیں احساس ہونے لگے کہ تم نے اس کے احسان کا بدلہ چکا دیا ہے۔ صلى الله ایک حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا كُن وَرِعًا تَكُنْ اَعْبُدَ النَّاسِ کہ تو پر ہیز گار ہو جا متقی ہو جا تو سب بندوں میں زیادہ عبادت کرنے والا شمار کیا جائے گا۔ اب یہ بہت ہی اہم مضمون ہے اس پر غور کرنا چاہئے ۔ عبادت کا مقصد نیک بنانا ہے اور اگر ایک شخص دن رات عبادت میں مصروف ہو لیکن تقوی سے عاری رہے اور روز مرہ کے اس کے انسانی تعلقات میں بھی رضائے باری تعالیٰ کے تابع تعلقات قائم نہ ہوں تو ایسے شخص کی عبادتیں بے کار ہیں۔ لیکن ایک شخص نیکی میں اتنا مصروف ہے کہ عبادت میں کمی آ رہی ہے یہ مطلب نہیں کہ فرض عبادات بجا نہیں لاتا یا نوافل کا کلیہ تارک ہے۔ مراد یہ ہے کہ اس میں غیر معمولی انہماک نہیں دکھا سکتا، ایسے شخص کو یقین دلایا گیا ہے کہ اگر تو نیکی پر قائم ہے اور خالصہ اللہ کام کر رہا ہے تو اعبد الناس صلى الله عروسه بن جائے گا، سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت کرنے والا ۔ یہ جو مضمون ہے اس کے اوپر آنحضرت کا ایک اور ارشاد گواہ ہے اس لئے کوئی نفسی تعبیر نہیں حقیقہ یہی مراد ہے اور اس کی تشریح یہ ہے کہ آنحضور ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اگر تم رضائے باری تعالیٰ کی خاطر اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی ڈالتے ہو تو عبادت ہے۔ تو مراد یہ ہے کہ ایک شخص ایسا نیک ہو چکا ہو کہ روز مرہ کی زندگی کے سارے صلى الله کام وہ اللہ کی رضا کی خاطر کرتا پھر رہا ہے تو اعبد الناس تو خود بخود ہو گیا کیونکہ اس کا زندگی کا ہر لمحہ آنحضور ﷺ کی اس تشریح کی روشنی میں عبادت بن جاتا ہے۔ پس کوئی فرضی بات نہیں ہے حقیقہ صلى الله