خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 596
خطبات طاہر جلد 13 596 خطبه جمعه فرموده 12 اگست 1994ء کرے اور اس بات کا خوف نہ کرے کہ اس حمایت کے نتیجے میں اسے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔حلف الفضول کی جو روح تھی وہ یہی تھی۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے بھی نبوت سے پہلے حلف الفضول کا ممبر بننا قبول فرمایا اور اس دور میں اپنے عہد کو اس طرح قائم رکھا کہ ایک دفعہ نبوت کے بعد جبکہ نبوت کے نام پر بے شمار دشمنیاں پیدا ہو چکی تھیں ایک شخص آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا آپ وہی ہیں جو حلف الفضول کے عہد میں ممبر تھے ان میں سے ایک آپ ہیں اور میں وہ عہد آپ کو یاد دلاتا ہوں اور آپ سے تقاضا کرتا ہوں کہ ایک ظالم شخص نے میری رقم دبائی ہوئی ہے اس سے رقم دلوائیں۔آنحضور نے پوچھا وہ کون ہے تو اس نے کہا ابو جہل۔اب بعد از نبوت ابو جہل کی دشمنی اور اس کا عناد اور ایک پرانے عہد کو اس پر صادر کرنا عام حالات میں تو ایک آدمی کہہ سکتا ہے کہ بڑی نا معقول بات ہے۔حلف الفضول کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ جو دین میں جان کے دشمن بن چکے ہوں ان سے چیز دلوائی جائے۔ایک معقول کوشش کی حد تک وعدہ ہے اور وہ پورا ہوسکتا تھا اگر یہ خاص غیر معمولی دشمنی کے حالات نہ ہوتے مگر بہر حال حضرت اقدس محمد مصطفی اع کے عہد کے معاملات میں ادنی سا داغ بھی اپنے اوپر قبول نہیں فرماتے تھے۔جائز تھا انکار کر دیتے مگر آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔صحابہ کو بھی تعجب ہوا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اس کو ساتھ لیا اور ابو جہل جو ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اس کے پاس جا کر کہا کہ تو نے اس کے اتنے پیسے دینے ہیں، یہ غریب اور مظلوم ہے اس کے پیسے ادا کرو۔اس نے کہا ٹھیک ہے میں ابھی دلواتا ہوں اور رقم کے لئے کسی کو ہدایت کی ، وہ رقم لا کر اس نے پیش کر دی اور وہ شخص لے کر شکر یہ ادا کیا یا نہیں کیا وہاں سے رخصت ہوا۔بعد ازاں اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ تم تو ہمیں تعلیم دیا کرتے تھے کہ اس شخص کا جان، مال اور عزت سب حلال ہے اور جب موقع ملے اس کو ہلاک کر دو اور تمہارا اپنا یہ حال ہے کہ تیرے پاس اکیلا آیا اور تو نے ان کی باتیں سنیں اور ان پر عمل کیا۔ابو جہل نے جواب دیا کہ تم نے وہ نہیں دیکھا جو میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔میں انکار کے لئے لب ہلانا چاہتا تھا تو میں دیکھتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پیچھے گویا دومست اونٹ کھڑے ہیں جو مجھ پر ہر دم حملے کے لئے تیار تھے۔اگر میں انکار کرتا تو مجھ پہ جھپٹ پڑتے۔اس نظارے سے میں اتنا مرعوب ہو گیا کہ مجھ میں طاقت نہیں تھی کہ میں انکار کر سکتا۔تو اللہ کے نام پر