خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 586
خطبات طاہر جلد 13 586 خطبه جمعه فرموده 5 را گست 1994 ء کے وجود کے ساتھ وابستہ تھی۔پس بعض وجود خدا تعالیٰ کی طرف سے بعض برکتوں کے مجسم نمائندہ ہو جایا کرتے ہیں اور الله نبی خدا کی برکتوں کا سب سے بڑا نمائندہ ہوتا ہے لیکن آنحضرت ﷺ کا ایک جسمانی وجود تھا، ایک روحانی وجود ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضور ﷺ کے وصال کے بعد عرض کیا کہ اے میرے آقا خدا تجھ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔پس وہ روحانی وجود زندہ ہے۔وقتی طور پر جب روحانی اور جسمانی وجودا کٹھے ہوں تو بعض دفعہ جسمانی وجود کے غائب ہونے سے نفسیاتی طور پر انسان دھوکا کھاتا ہے کہ وہ اب ہم میں نہیں رہا اور اس کی وجہ سے بہت سی آزادیاں جو حقیقت میں آزادیاں نہیں بلکہ غلامیاں ہیں یعنی شیطان کی غلامیاں، وہ سر اٹھانے لگتی ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ ایک وجود قتی طور پر ہم میں نہیں رہا اور ایک نفسیاتی کیفیت ہے۔آنحضرت ﷺ کے وصال کے معا بعد جو سلسلہ شروع ہوا ہے اور وہ خلافت رابعہ کے آخر پر بد نصیبی سے خلافت کی نعمت کو ہاتھ سے کھونے پر منتج ہو وہ یہی نفسیاتی کیفیت تھی آنحضور ظاہری طور پر ساتھ رہا کرتے تھے آپ کا روحانی۔وجود ہمیشہ کے لئے ساتھ رہ رہا تھا۔عادت پڑ گئی تھی اس روحانی وجود تک اس جسمانی وجود کے واسطے سے پہنچنے کی اور فوری طور پر انسان اس تبدیلی کو محسوس کر کے اس کو ہضم نہیں کر سکا۔پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کے روحانی وجود کو ایک زندہ وجود کے طور پر امت میں ہمیشہ جاری رکھا ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو روحانی وجود کو دیکھنے اور اس کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ ایک فرق ہوا کرتا ہے۔وجود تو روحانی ہی ہے جسمانی وجود تو اس کا ایک پیکر ہے جس نے اس کو اٹھایا ہوا ہے مگر عام طور پر نبی سے نبی دماغ بھی جسمانی وجود کو دیکھ کر متاثر ہو جاتا ہے اور ذہین انسان ہے جو اس کے اندر کے روحانی وجود پر نظر رکھتا ہے۔پس جب وقتی طور پر جسمانی وجود کو الگ کیا جائے یوں معلوم ہوتا ہے کھلی چھٹی مل گئی ہے جو چاہو کرتے پھرو۔یہی کیفیت ہے جو اسلام کی یا رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد کی ابتدائی تاریخ میں رونما ہوئی اور ہم نے اپنے دور میں اس کو اسی طرح دیکھا ہے۔جب میں ربوہ سے روانہ ہوا یعنی اس عارضی ہجرت میں تو فوری طور پر ربوہ کے ان لوگوں کا یہی رد عمل تھا جو میرے وہاں رہنے کے رعب کی وجہ سے ٹھیک رہتے تھے اور بعد میں کئی قسم کی شرارتیں