خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 584 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 584

خطبات طاہر جلد 13 584 خطبه جمعه فرموده 5 اگست 1994ء استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ جب اللہ کی نعمت بنے ہیں اور مجسم نعمت بن گئے ہیں تو اس نعمت کے ذریعے خدا تعالیٰ نے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے پس قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کے وجود کی صحابہ کو اکٹھا کرنے میں ایک ذریعہ بنے کی نفی نہیں فرمائی بلکہ اس کی توثیق فرمائی ہے جیسا کہ فرمایا کہ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ کہ اے محمد رسول الله ﷺ اگر تو مزاج میں سخت ہوتا اور ان لوگوں سے کسی لحاظ سے بھی بد خلقی سے پیش آتا تو یہ تجھے چھوڑ کر ارد گرد بھاگ جاتے تو اس وقت پھر اَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ کا مضمون کیسے صادق آتا۔ پس اللہ ہی ہے جو اکٹھا کرتا ہے مگر کچھ ذریعے اختیار فرماتا ہے اور اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے اور اس ذریعے کی روح یہ بیان فرمائی کہ نہایت اعلیٰ خلق کے مالک تھے آپ کے گوشے اپنے صحابہ کے لئے نرم تھے، آپ کا پیار اور رحمت تھی جو لوگوں کے دل جیت رہی تھی اور آپ کو رؤف رحیم فرمایا یعنی بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ کہ اتنا زیادہ رحمت کرنے والا اتنا شفقت کا سلوک کرنے والا ہے کہ گویا خدا کی دو صفات اس کی ذات میں جلوہ گر ہوگئی ہیں اللہ رؤف ہے تو یہ بھی رؤف بن گیا ہے اللہ رحیم ہے تو یہ بھی رحیم بن گیا ہے ۔ صلى الله پس محمد رسول اللہ ﷺ کی وساطت کے بغیر خدا تعالیٰ کے قرب کا تصور ایک جاہلانہ تصور ہے، بالکل بے حقیقت تصور ہے۔ اہل قرآن سے بڑھ کر اس دنیا میں کوئی جاہل نہیں ہے جو مسلمان صلى الله کہلا کر بھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے بے نیازی کی باتیں کرتے ہیں گویا محمد رسول اللہ تو صرف ایک مشین تھے جن پر قرآن اتر گیا اور اس کے بعد ہمیں چھٹی ہوئی ۔ اب محض قرآن ہی ہے جس پر ہاتھ ڈال لو اور رسول اللہ ﷺ کی ضرورت نہیں رہی ۔ حالانکہ رسول کی اگر ضرورت نہ ہو تو آج کیا ہو گیا ۔ آج قرآن وہ نہیں ہے۔ کیا وہی ہم ہیں جو اس زمانے میں ہوا کرتے تھے جب محمد رسول اللہ ﷺ تھے کیا عالم اسلام کا وہی عالم ہے جو صحابہ کا عالم تھا اور ان کے دل اور ان کی روح کی کیفیات تھیں؟ چه نسبت خاک را با عالم پاک۔ وہ اگر عالم پاک تھا تو یہ خاک کی دنیا ہے اس کو اس عالم پاک سے کوئی بھی نسبت نہیں رہی اور قرآن وہی ہے۔ پس اہل قرآن کو جھوٹا کرنے کے لئے اس سے بڑی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ قرآن تو اسی طرح ہے ایک ذرہ بھی اس میں تبدیلی نہیں ہوئی اور تم