خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 53

خطبات طاہر جلد 13 53 33 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1994ء رحیمیت کے آپس کے تعلق سے بنتی ہے۔مگر یہ بھی سر دست اس کو چھوڑنا پڑتا ہے۔کیوں کہ ایک لمبا مضمون ہے۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم جو کہتے ہیں انا اللهُ أَعْلَمُ کا مطلب ہے میں ہوں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ قرآن کریم کے بہت سے بطن ہیں لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الف جو ہے وہ آنا کا ہو اور لام اللہ کا اور میم رحمانیت اور رحیمیت کی ہو اور مراد یہ ہے کہ میں ایک وجود ہوں جس سے آگے صفات کے پھوٹنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور میری پہلی صفت رحمانیت ہے اور پھر رحیمیت ہے پھر آگے ان کے مختلف تعلقات اور جلووں سے تمام صفات پیدا ہوتی ہیں اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ میں جس طرح ایک ہوں اور کوئی میرا ثانی نہیں۔اسی طرح میم سے مراد محمد ہو ، اور مراد یہ ہو کہ مخلوقات میں محمد بھی اسی طرح ایک ہے اور اس کا کوئی ثانی نہیں لیکن جس طرح میں ایک ہونے کے باوجود مختلف صفات میں جلوہ گر ہو کر تمہیں مختلف رنگوں میں دکھائی دے رہا ہوں اور تم ان صفات کو اپنا بھی سکتے ہو۔اسی طرح اگر چہ محمد بھی ایک ہے لیکن تم اگر چاہو تو اس کی صفات کو اپنا کر اس کا قرب حاصل کر سکتے ہو اور ویسے ہی جلوے دکھا سکتے ہو۔تو ”انا“ کا سفران معنوں میں کہ خدا کی ذات سے نکلا ہے ہر قسم کے رنگ سمیٹے ہوئے ہے، ہر قسم کے حسن کی آماجگاہ ہے اور یہیں سے حسن پھوٹتے ہیں اور جب ہمارا تصور اس مضمون کو پا لے اور ہم سمجھ لیں کہ ہم نے زندگی کا سفر کیوں اختیار کیا اور کس جانب یہ سفر ہے۔تو پھر ایک تمنا پیدا ہوتی ہے کہ ہم اس طرف لوٹ جائیں تبھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے وصال کے وقت بار بار یہ الفاظ ادا کئے اللهُمَّ فِى الرَّفِيقِ الأَعْلَى اللَّهُمَّ فِى الرَّفِيقِ الْأَعْلَى اے میرے اللہ اب تو میں رفیق اعلیٰ میں ڈوبنے کی تمنا رکھتا ہوں، تو میرا وہ اعلیٰ دوست ہے، اعلیٰ لذات کے مضمون پر غور کریں۔یہ وہی مضمون ہے اعلیٰ لذات والا ، کہ دنیا میں بھی رفیق تھے جو تیری وجہ سے پیارے لگتے تھے۔مگر وہ سارے تیرے مقابل پر ادنی رفیق ہیں۔ان کے تعلق کی لذتیں تیری لذت کے مقابل پر ادنی کہلاتی ہیں، ادنی کہلائیں گی ادنیٰ ہیں۔ایک ہی ہے جو رفیق اعلیٰ ہے جس کے ساتھ رفاقت کی سب سے اعلیٰ لذتیں وابستہ ہیں۔پس اللهُمَّ فِى الرَّفِيقِ الأغلى اے خدا میں تیری ذات میں لوٹ کر تجھ میں ڈوب جانا چاہتا ہوں۔یہ ہے مرجع تام یعنی باشعور خدا کی طرف لوٹنے کی تمنا پیدا ہو اور اس کے پیچھے اس کی